http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 26 August, 2006, 17:59 GMT 22:59 PST

عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور کی مخدوش و جان لیوا عمارتیں

لاہور میں جمعرات کو شاہ عالمی بازار میں ایک سات منزلہ کاروباری عمارت کی تین منزلیں منہدم ہونے سے دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

لاہور میں جان لیوا بارشیں
لاہور میں بارش، تصاویر
شہر میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران عمارتیں منہدم ہونے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران عمارتوں کے انہدام سے مجموعی طور پر نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

شاہ عالمی بازار میں جانی اور مالی نقصان عمارت کی بالائی منزلوں کے انہدام سے ہوا۔ یہ منزلیں نقشے کے بغیر غیر قانونی طور پر بنائی گئی تھیں اور اس واقعہ کے دن تک ان پر تعمیر کا کام جاری تھا۔

جو منزلیں منہدم ہوئی وہ ایک اینٹ کی دیواروں پر کھڑی کی گئیں تھیں۔ قانون کی یہ کھلی خلاف ورزی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

عمارت کی منہدم منزلوں کا ملبہ اٹھانے کے لیئے مزدور تین دن سے لگے ہیں اور خیال ہے کہ یہ کام مکمل ہونے میں دس بارہ روز لگ سکتے ہیں۔

اسارہ برائے ترقیات لاہور (ایل ڈی اے) کے مطابق صرف شاہ عالمی بازار میں چھیانوے کثیر منزلہ تجارتی عمارتیں ہیں جن میں سے اکثر بااثر اور مقامی سیاسی رہنماؤں کی ملکیت ہیں۔

اس واقعہ کے بعد لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے شاہ عالمی بازار میں جاری تمام تعمیرات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

سٹرکچرل انجینئر نہیں ہیں
 ضلعی حکومت کا اربوں روپے کا بجٹ ہے لیکن اس کے پاس ایک بھی سٹرکچرل انجینئیر نہیں جو اس بات کا تعین کرسکے کہ آیا عمارتوں کے ڈھانچوں کے ڈیزائین ایسے ہیں کہ بنائی جانے والی منزلوں کا بوجھ اٹھاسکیں
 

ناظم نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت کے مالک کو مالک کو گرفتار کر کے اس سے خون بہا لیا جائے اور عمارت کے ملبے تلے دب کر تباہ ہونے والی گاڑیوں کی قیمت بھی وصول کی جائے۔

تاہم اس حکم کے دو دن بعد، مقدمہ درج ہونے کے باوجود بھی پولیس نے عمارت کے مالک بلال لودھی کو گرفتار نہیں کیا۔

ضلعی ناظم عامر محمود پہلے بھی غیر قانونی اور بلڈنگ قوانین کے خلاف بننے والی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں تاہم ان احکامات پر عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔

جب بھی لاہور میں کوئی عمارت منہدم ہوتی ہے تو شہر کی ضلعی حکومت فورا بیان بازی شروع کردیتی ہے کہ مخدوش عمارتوں کا سروے شروع کردیا گیا ہے اور ان میں رہنے والوں کو نوٹس دیئے جارہے ہیں۔

تاہم خطرناک عمارتوں کے خلاف عملاً کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور آج تک شہر میں کوئی مخدوش یا غیر قانونی عمارت منہدم نہیں کی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ ضلعی حکومت کا اربوں روپے کا بجٹ ہے لیکن اس کے پاس ایک بھی سٹرکچرل انجینئیر نہیں جو اس بات کا تعین کرسکے کہ آیا عمارتوں کے ڈھانچوں کے ڈیزائین ایسے ہیں کہ بنائی جانے والی منزلوں کا بوجھ اٹھاسکیں۔

لاہور کے بڑے اور تاریخی بازار انار کلی اور اس سے ملحقہ دھنی رام روڈ پر ایسی درجنوں قدیم تجارتی عمارتیں ہیں جو شہر میں گرنے والی متعدد پرانی عمارتوں کی طرح محض بہانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

حکم ہوتا ہے عمل نہیں ہوتا
 ضلعی ناظم عامر محمود پہلے بھی غیر قانونی اور بلڈنگ قوانین کے خلاف بننے والی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں تاہم ان احکامات پر عمل دیکھنے میں نہیں آیا
 

گزشتہ بیس پچیس برسوں سے اندررون شہر کے بازاروں جیسے شاہ عالمی، رنگ محل اور اس سے ملحقہ بازاروں میں دھڑا دھڑ کثیر منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں جن کی تعمیر کے وقت کسی سٹرکچرل انجئنئیر سے ڈیزائینگ نہیں کروائی جاتی اور سارا کام ٹھیکے دار یا مستری خود ہی کرلیتے ہیں۔