Friday, 25 August, 2006, 01:13 GMT 06:13 PST
ظفر عباس
بی بی سی نیوز
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ستمبر کے وسط میں جب نیویارک جائیں گے تو وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائیندگی کے ساتھ ساتھ وہاں اپنی اُس کتاب کی رونمائی کی تقریب میں مہمان خصوصی بھی ہوں گے جس کا بہت دیر سے انتظار کیا جارہا ہے۔
اگر پبلشنگ کی دنیا میں گردش کرتی افواہوں پر یقین کر لیا جائے تو جنرل مشرف کی اس کتاب میں وہ سب کچھ ہے جو اسے ایک کامیاب کتاب اور ممکنہ طور پر ’بیسٹ سیلر‘ بنا سکتا ہے۔
’ان دی لائن آف فائر -- اے میموئر‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ کتاب سائمن اینڈ شسٹر نامی پبلشر چھاپ رہے ہیں اور اس کی ہارڈ بیک کاپی اٹھائیس ڈالر میں دستیاب ہوگی۔
گھوسٹ رائٹر کون؟ |
پچیس ستمبر کو منظر عام پر آنے والی 368 صفحوں پر مشتمل اس کتاب میں جنرل مشرف نے بظاہر اپنی فیملی لائف سے لے کر فوج میں اپنے وقت اور 1999 میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے تک سبھی معاملات پر بات کی ہے۔
اس کتاب میں جنرل مشرف نے انڈیا کے خلاف کارگل جنگ اور امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت جیسے متنازعہ فیصلوں کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا ہے۔
کئی برطانوی اور امریکی پبلشرز نے جنرل مشرف کی سوانح عمری چھاپنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن کافی تفصیلی بات چیت کے بعد سائمن اینڈ شسٹر نے2005 کے شروع میں جنرل مشرف کے ساتھ معاہدہ کیا اور اطلاعات کے مطابق انہیں خاصی بڑی رقم ایڈوانس کے طور پر بھی دی گئی۔
اس معاہدے کے طے پانے کے کچھ ہی دنوں بعد پبلشنگ ادارے کے ایک سینئیر ایڈیٹر بروس نکولس نے کہا کہ جنرل مشرف کتاب لکھنے میں ایک ’تجربہ کار صحافی اور قریبی ساتھی‘ کی مدد لیں گے لیکن یہ مشترکہ تحریر کے مترادف نہیں ہوگا۔
پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ اس کتاب کی تحریر میں جنرل مشرف کو جس تجربہ کار صحافی نے مدد کی ہے وہ ایک سابق بیوروکریٹ کے بیٹے ہیں اور انہوں نے ہی فیلڈمارشل ایوب خان کی سوانح عمری ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ لکھنے میں مدد کی تھی۔
کتاب کی تحریر میں جنرل مشرف کی جس نے بھی مدد کی ہو اس میں دلچسپی سبھی کو ہے اور اس کا انتظار بھی خاصی شدت سے کیا جارہا ہے۔