Thursday, 24 August, 2006, 11:41 GMT 16:41 PST
پاکستان کے ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ انڈیا کے تھر ایکسپریس کو چار ہفتے کے لیئے معطل کرنے کا فیصلہ بڑا حیران کن ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب رن پٹھانی کا پل گرا کر بالکل تباہ ہوگیا تھا تو ریلوے حکام نے اُسے دوبارہ بنا کر آمدورفت کے لیئے بحال کردیا تھا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تھر ایکسپریس کی معطلی کے بارے میں انڈین حکام زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے چار ہفتوں کا وقت کیوں لیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان سے گئے جو لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ویزے کی مخصوص معیاد ہوتی ہے تو انڈین حکام ان افراد کو واپسی کے لیئے متبادل راستے کیسے فراہم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان بسوں کے ذریعے پاکستانیوں کو اپنی جانب واقع زیرو پوائنٹ پر لے آئے تو آگے سے پاکستان کے ریلوے حکام انہیں ریل کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ تجویز ریلوے حکام نے وزرات خارجہ کو دے دی ہے جس پر وہ آگے بات چیت کرے گا۔
اس صورت حال میں دونوں جانب کے مسافروں کے پھنس جانے کے بعد پاکستان کے ریلوے حکام کےانتظامات کے بارے میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایوانِ صدر، وزیراعظم ہاؤس اور وزرات خارجہ میں متعلقہ افراد کو بتا دیا گیا ہے اور
وہ لوگ اس بارے میں کچھ کر رہے ہوں گے کیونکہ یہ ریلوے کی وزارت کا کام نہیں بلکہ وزارتِ خارجہ کا کام ہے کہ وہ اس مسئلے کا کیا حل تلاش کرتی ہے۔
![]() | |
| دونوں ممالک کے درمیان تھر ایکسپریس اس سال شروع ہوئی تھی |
ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے جی ایم آپریشن کو انڈین حکام کی جانب سے ملے خط میں بتایا گیا ہے کہ ریل سروس چار ہفتے کے لیئے معطل کی جا رہی ہے۔ ریلوے حکام کو تو چار ہفتے کا وقت دیا گیا ہے تاہم میڈیا میں کیا وقت بتایا جا رہا ہے اس بارے میں انہیں علم نہیں ہے۔
بسوں کے انتظامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بسوں کا انتظام ہونا چاہیے اور اگر ہندوستان کہے تو پاکستان ہندوستانیوں کو چھوڑنے کے لیئے ایک ٹرین زیرو پوائنٹ پر لا سکتا ہے اور واپسی پر وہ ٹرین پاکستانی مسافروں کو لے آئے گی اس طرح سے لوگوں کی پریشانی کم کی جا سکے گی۔