Thursday, 24 August, 2006, 18:25 GMT 23:25 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں قبائلی جرگہ میں سرداری نظام ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ بگٹی قبیلے کی چھ مختلف شاخوں کے سربراہوں نے سرداری نظام ختم کرکے پاکستان کے قوانین کے تحت نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی تنازعات کے حل کے لیئے مصالحتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگہ کوئی چار گھنٹے تک جاری رہا جس میں مختلف قراردادیں پیش کی گئی ہیں۔
دوسری طرف نواب اکبر بگٹی کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے کہنے پر صدیوں سے رائج نظام ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مقامی لوگوں نے ٹیلیفون پر بتایا کہ جن قبیلے کے سربراہوں نے اس جرگے میں شرکت کی ہے ان کے بھائی یا رشتہ دار نواب اکبر بگٹی کے حمایتی ہیں اور ان کے ساتھ پہاڑوں پر رہے ہیں۔
اس بارے میں حکومت مخالف بگٹی مسلح قبائلیوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی محب وطن ہیں اور وہ حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ جن لوگوں کو جرگے کے لیئے اکٹھا کیا گیا ہے وہ سب حکومت کے دباؤ اور یا مراعات کی وجہ سے یہ باتیں کر رہے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس جرگے میں نواب اکبر بگٹی کے رشتہ دار اور ڈیرہ بگٹی سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی حاجی جمعہ بگٹی نے کچھ دیر کے لیئے شرکت کی اور اس موقع پر انہوں نے قبائل کے مابین اتفاق کی باتیں کیں۔
اس بارے میں میں چیف آف سراوان نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ حکومت قبائلی معاملات میں مداخلت نہ کرے کیونکہ یہ ایجنسیاں نہ تو کسی کو قبیلے کا سردار بنا سکتی ہیں اور نہ سرداری سے ہٹا سکتی ہیں بلکہ اس کے لیئے ایک نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح حکومت کی مداختلت کی مذمت کرتے ہیں۔
نواب اسلم رئیسانی سراوان کے علاقے کے نواب ہیں جبکہ سردار ثناءاللہ زہری جھلاوان کے علاقے کے سردار ہیں۔ نواب اسلم رئسانی نے کہا کہ قبائلی نظام کے سربراہی خان آف قلات کرتے ہیں اور کسی بھی سردار کا تقرر خان آف قلات اپنے دربار میں معتبرین کی موجودگی میں کرتے ہیں جبکہ چیف آف سراوان اور چیف آف جھلاوان اس کی دستاربندی کرتے ہیں۔