Tuesday, 22 August, 2006, 04:55 GMT 09:55 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بہاولپور
’اسے آپ ہماری بد قسمتی ہی سمجھیے کہ ان سے ہماری رشتہ داری نکل آئی ہے‘ یہ الفاظ تھے کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کے بھائی عالمگیر کے جب ان سے برطانوی شہری راشد رؤف کے بارے پوچھا گیا، جنہیں لندن میں مسافر طیاروں کو مبینہ طور پر خود کش بمباروں کی مدد سے تباہ کرنے کی ناکام سازش تیار کرنے کے الزام میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔
عالمگیر کا کہنا تھا کہ سولہ برس قبل جب ان کے بھائی مولانا طاہر کی شادی مولانا مصطفیٰ کی صاحبزادی سے ہوئی تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مولانا صاحب کی دوسری بیٹی کی شادی چودہ برس بعد ایک ایسے شخص سے ہوگی جو بعد میں ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے الزام میں گرفتار ہوگا۔
![]() | |
| لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لیئے قائم مدرسے الجامعۃ الہاشمیۃ البناتِ الاسلام کے مہتمم مولانا منظور شاہ کے مرحوم مولانا غلام مصطفیٰ کے گھرانے سے قریبی تعلقات ہیں |
ان کے مطابق راشد رؤف کا جیش محمد سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے انہیں کبھی دیکھا ہے۔عالمگیر اپنے والد کے ایک مبینہ انٹرویو کے حوالے سے سخت خائف تھے۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی طرف سے جاری کردہ اس انٹرویو میں مولانا اللہ بخش سے یہ بیان منسوب کیا گیا تھا کہ راشد رؤف جیش محمد کے کارکن تھے جنہوں نے بعد میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کرلی۔’ والد صاحب پندرہ روز سے شدید بیمار ہیں اور انہوں نے اس دوران کسی صحافی سے ملاقات نہیں کی‘۔
دارالعلوم مدنیہ کے ترجمان مولانا غلام مصطفیٰ مرحوم کے صاحبزادے مولانا صہیب ہیں جن کے بارے مدرسے سے معلوم ہوا کہ وہ وفاق المدارس عربیہ کے سالانہ امتحانات کےسلسلے میں کہیں گئے ہوئے ہیں۔سفر پر روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے ایک تحریری بیان کے ذریعے اس بات کی تردید کی کہ راشد رؤف (یعنی ان کے بہنوئی) کی گرفتاری دارالعلوم مدنیہ سے ہوئی۔
مدرسے سے حاصل کیئے گئے ان کے موبائل فون نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بغیر کہے سنے اسی تردیدی بیان کو دہرایا اور ساتھ ہی راشد رؤف اور حتیٰ کہ مولانا غلام مصطفیٰ سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا۔
![]() | |
| راشد رؤف کے سسر مولانا غلام مصطفیٰ مرحوم بہاولپور میں انیس سو پینسٹھ سے قائم دینی مدرسے ’جامعہ دارالعلوم مدنیہ‘ کے بانی تھے |
لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لیئے قائم مدرسے الجامعۃ الھاشمیۃ البناتِ الاسلام کے مہتمم مولانا منظور شاہ کے مرحوم مولانا غلام مصطفیٰ کے گھرانے سے قریبی تعلقات بارے معلوم ہوا تو ان سے رابطہ کیا گیا۔ منظور شاہ بہاولپور میں پنسار کی ایک قدیمی دکان کے مالک بھی ہیں۔
راشد رؤف نے ماڈل ٹاؤن بلاک سی میں رہائش کے لیئے جو گھر خریدا تھا وہ مولانا منظور کے گھر سے چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملتان کی بستی ملوک سے تعلق رکھنے والے دو ’کشمیری مجاہدین‘ راشد رؤف کا رشتہ لے کر آئے تھے اور تب انہوں نے ان کا تعارف محمد خالد کے طور پر کرایا تھا۔
بستی ملوک کو ایک زمانے میں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق راشد رؤف کی گرفتاری چار اگست کو روز بستی ملوک سے بہاولپور واپس جاتے ہوئے لودھراں کے قریب ہوئی۔
![]() | |
| پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے راشد رؤف کو بہاولپور لودھراں روڈ پر کہیں سےگرفتار کیا |
مبصرین کے مطابق راشد رؤف کا عسکریت پسندوں سےتعلق، مولانا مسعود اظہر سے قرابت داری اور بہاولپور کے گردونواح سے گرفتاری محض اتفاق نہیں بلکے پاکستانی ’جہادی‘ تنظٌیموں کے بین الاقوامی رابطوں کی نشاندہی کرنے والے عوامل ہیں۔