Sunday, 20 August, 2006, 01:26 GMT 06:26 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے دونوں ملکوں کے سکریٹری خارجہ کی سطح پر ملتوی شدہ ملاقات کے علاوہ بھی کچھ میٹنگز یا ملاقاتیں طے تھیں جو ہو رہی ہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ ہندوستان یہ سمجھ گیا ہے کہ ڈائیلاگ ختم کردینا خود اس کے مفاد میں نہیں ہے۔
وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ مذاکرات کرکے کوئی ایک ملک دوسرے پر احسان نہیں کر رہا بلکہ مذاکرات کا جاری رہنا دونوں ملکوں کے اپنے مفاد میں ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملک یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ڈائیلاگ کا معاملہ ہے توجامع مذاکرات ہندوستان نے خود ملتوی کیے تھے اور اب ان کے بقول ان مذاکرات کے لیئے نئی تاریخ بھی انڈیا نے ہی دینی ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے صدرمشرف اور وزیر اعظم من موہن کی ملاقات کے امکان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے کچھ ایسے دوست ہیں جو ایسی کوششیں کرتے رہتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ گیند اب ہندوستان کی کورٹ میں ہے کیونکہ سکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات خود اس نے ملتوی کیئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ملک یہ سمجتھے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں امن، بین الاقوامی امن کے لیئے ضروری ہے۔
![]() | |
| پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ملک یہ سمجتھے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں امن، بین الاقوامی امن کے لیئے ضروری ہے۔ |
انہوں نے کہا کہ سکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کو ملتوی کیا جانا ہندوستان کا ردعمل تھا جو اس کے اندرونی سیاسی دباؤ کی وجہ سے سامنے آیا تھا اور ہر ملک میں اپوزیشن ایسا دباؤ پیدا کرتی ہے۔
لبنان میں پاکستانی فوج کو امن دستے میں شامل کیئےجانے کے حوالےسے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بارے میں پاکستان ابھی حالات کا جائزہ لے رہا ہے اور انہوں نے تمام معاملات سے صدر اور وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی لبنان کے اعلی عہدیداروں کی اپنے طور پر ایک اہم ملاقات ہونا باقی ہے اسی طرح اقوام متحدہ کی وہ قرارداد بھی مبہم ہے جس کے تحت امن فورس بھجوائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنانی وزیر اعظم نے انہیں کہاتھا کہ پاکستان کی فوج لبنان بھیجی جائے لیکن پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے فوری کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ پہلے پاکستان اس بات کا جائزہ لے گا کہ قرارداد میں موجود مبہم باتوں کا بین الاقوامی برادری کیا مطلب لیتی ہے اور پھر اس بات کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ حزب اللہ اور دیگر لبنانی حلقے اس فورس سے کیا مطلب اخذ کریں گے اس کے بعد ہی لبنان میں پاکستانی فوج بھجوانے کا کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔