پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ صدر جنرل مشرف کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیئے پاکستان میں مذہبی جماعتوں اور شدت پسند گروہوں کے اثر و نفود کو کم کرنا ہوگا۔
بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں انتہاپسندی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کے بارے میں حدشات رکھتی ہیں کیونکہ’جب بھی دہشتگرد گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے تانے بانے اسلام آباد سے جا ملتے ہیں‘۔ تاہم انہوں نے ان پاکستانی حکام کی تعریف کی کہ جن کی کارروائی اور فراہم کردہ معلومات کی بدولت لندن طیارہ سازش ناکام ہوئی۔
بے نظیر بھٹو کے مطابق صدر مشرف ایک کارگر سیاسی نظام کی عدم موجودگی اور تیزی سے پھیلتی غربت کی وجہ سے شدت پسندی سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو نے چند ماہ قبل پاکستان کے ایک اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ مشرف حکومت کے خاتمے کی کوششوں کے لیئے میثاقِ جمہوریت پر دستحظ کیئے تھے اور سنہ 2007 کے انتخابات سے قبل جنرل پرویز مشرف کو چیلنج کرنے کے لیئے وطن واپسی کا اعلان کیا تھا۔