اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آج جس جگہ پاکستان کی سٹیل ملز کا پلانٹ اور ملازمین کی رہائشی کالونی واقع ہے وہاں سے انیس سو تہتر میں پندرہ دیہات میں سے سات سو خاندانوں کو بے دخل کیا گیا۔
یہ بات بے دخل ہونے والے ایک خاندان کے سربراہ سید خدا ڈنو شاہ نے بی بی سی کو بتائی اور کہا کہ ان کے مکان، قبرستان، کنویں، مساجد، تعلیم اور صحت کے ادارے بھی تباہ ہوگئے اور تنیتیس برس تک انہیں اپنی زمینوں کا معاوضہ تک نہیں ملا۔
سٹیل ملز کے سامنے رزاق آباد نامی بستی میں چار پائی پر بیٹھے خدا ڈنو کے ہاتھ میں دو فائلیں تھیں جس میں انیس سو تہتر سے تاحال سٹیل ملز انتظامیہ کے ساتھ خط و کتابت کے تمام خط انہوں نے اچھی طرح سنبھال کے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر میں جن پندرہ دیہات کو ختم کیا گیا وہاں تین پرائمری سکول اور ایک ڈسپینسری تھی اور سٹیل ملز والوں نے کہا کہ وہ انہیں متعلقہ سہولیات فراہم کریں گے لیکن ان کے مطابق انہیں ہر کچے گھر کا معاوضہ پانچ سو سے ایک ہزار اور پکے گھر کا پندرہ سو روپے دیا گیا اور ایک سو بیس گز کا ہر متاثرہ خاندان کو پلاٹ ملا۔
![]() | |
| خدا ڈنو نے 1973 سے تاحال مل انتظامیہ کے ساتھ خط و کتابت کے تمام خط سنبھال کے رکھے ہیں |
خدا ڈنو شاہ کے مطابق انیس سو تہتر میں زرعی زمین کے پانچ سو کھاتہ دار تھے جو اب بٹوارے کے بعد بائیس سو ہوچکے ہیں۔
ان کے مطابق سٹیل ملز نے انہیں ایک روپیہ فی گز زمین کا معاوضہ دیا جس پر زمینداروں نے اعتراض کیا اور عدالت میں گئے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت نے یہ معاوضہ سات روپے فی گز طے کیا لیکن سٹیل ملز نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور تاحال معاملہ ہائی کورٹ میں لٹکا ہوا ہے اور انہیں رقم نہیں ملی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سٹیل ملز انتظامیہ نئے رہائشی منصوبوں میں متاثرین کو بھی پلاٹ دیں تاکہ وہ اپنا مکان بنا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر میں انہیں ایک سو بیس گز کا پلاٹ ملا لیکن اب ان کے پوتے بھی جوان ہوچکے ہیں اور جس گھر میں پہلے ایک خاندان تھا اب پانچ سے سات خاندان ہوچکے ہیں اور وہ ایک سو بیس گز کے مکان میں کیسے گزارا کرسکتے ہیں۔
ایک اور متاثرہ شخص ساٹھ سالہ صوبن جوکھیو نے بتایا کہ ان کا تو وکیل ہی اب مرگیا ہے اور مقدمہ لڑنے کی ان میں اب سکت ہی نہیں۔
![]() | |
| انیس سو تہتر میں پندرہ دیہات میں سے سات سو خاندانوں کو بے دخل کیا گیا |
سومار ڈوکی نامی ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ انیس سو تہتر میں سٹیل ملز میں ڈرائیور بھرتی ہوئے اور چار برس قبل انہیں ملازمت سے فارغ کرنے کی دھمکی ملی تو انہوں نے ’گولڈن ہینڈ شیک‘ قبول کرلیا۔
ان کے مطابق اب انہیں چار ہزار روپے پینشن ملتی ہے جس سے ان کی دوائی کے اخراجات بھی بمشکل پور
ہوتے ہیں۔
عالم شیر گبول نامی متاثرہ شخص نے بتایا کہ ان کے ساتھ طے پایا تھا کہ سٹیل مل کے زیادہ تر ملازمین متاثرہ خاندانوں سے بھرتی ہوں گے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے بچوں کو ملازمت ملے گی لیکن انہوں نے کہا کہ نہ تو بیشترمتاثرین اور نہ ہی ان کے بچوں کو ملازمت ملی ۔
اس بارے میں مل کی انتظامیہ کہتی ہے کہ انہوں نے متاثرین کو مکانوں کا طے شدہ معاوضہ دے دیا تھا اور سب نے بخوشی قبول کیا تھا تاہم ان کے مطابق زمینوں کے معاوضے کی رقم کا معاملہ عدالت میں ہے اور رقم بھی عدالت میں جمع ہے۔
بیشتر مزدوروں اور سٹیل کی صنعت سے وابستہ افراد کہتے ہیں کہ سٹیل ملز جب روزانہ تین کروڑ روپے کی پیداوار دے رہی ہے تو اُسے نجی شعبے کے حوالے نہ کیا جائے اور اگر نجی شعبے کو دینی ہے تو مزدوروں کو دی جائے جو حکومت کی قیمت فروخت یعنی اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپے سے زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیئے تیار ہیں۔