Friday, 18 August, 2006, 13:37 GMT 18:37 PST
اعجازمہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے جمعہ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برطانوی قانونی ماہرین کی ایک ٹیم اسلام آباد آئی ہوئی ہے اور لندن سازش کے متعلق پاکستانی حکام سے بات چیت کر رہی ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ٹیم پاکستان میں گرفتار ہونے والے راشد رؤف سے متعلق تحقیقات کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔
ایک اور سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹیم کے ارکان کو راشد رؤف سے پوچھ گچھ کی تاحال اجازت نہیں دیگئی ہے اور نہ ہی برطانوی حکومت نے راشد رؤف کو برطانیہ حوالے کرنے کی بات کی ہے۔
تاہم راشد رؤف کے والد عبدالرؤف کی گرفتاری کے متعلق وزیر داخلہ نے لاعلمی ظاہر کی۔ ایک خبر رساں ادارے ’اے ایف پی، نے سرکاری ذرائع سے خبر دی ہے کہ عبدالرؤف کے والد کو کچھ عرصہ قبل ایک ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا تھا جب وہ پاکستان سے باہر جا رہے تھے۔
تبصرے سے انکار |
پاکستانی اور برطانوی حکام پر لندن سے امریکہ کے لیے جانے والی پروازوں کو فضا میں تباہ کرنے کے خود کش منصوبے کا راز اس وقت کھلا جب پاکستان نے راشد رؤف نامی برطانوی شہری کو بہاولپور سےگرفتار کیا۔ان کی گرفتاری کے بعد برطانیہ کے مختلف علاقوں سے دو درجن کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا اور پاکستان میں بھی مزید گرفتاریاں ہوئیں۔
پاکستانی حکام تاحال گرفتار ہونے والوں کے نام یا تعداد بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں البتہ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ افغانستان میں موجود القائدہ کے سرکردہ رہنماؤں نے بنایا تھا اور اس پر عمل کرنے والوں میں راشد رؤف سرفہرست ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی جانب سے لندن سازش کے متعلق تفتیش کے بارے میں مزید معلومات اس لیے فراہم نہیں کی جارہی کہ وہ برطانوی نظام قانون کی وجہ سے آئندہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔
اس سے قبل کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام نے کہا کہ مبینہ طیارہ سازش کا اہم کردار شمالی مشرقی افغانستان کے پہاڑی علاقے میں روپوش ہے۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کے مطابق یہ معلومات راشد رؤف سے پوچھ گچھ کے دوران سامنے آئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سازش تیار کرنے والا مبینہ شخص القاعدہ کا سینئر رہنما ہے۔ تاہم افغانستان نے پاکستانی الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اب اس گروہ کے لیئے پناہ گاہ نہیں رہی ہے۔
رپورٹیں بے بنیاد |
اس سے قبل ایک پاکستانی اہلکار کا کہنا تھا کہ راشد رؤف شاید اس سازش کے سرغنہ تو نہیں تھے لیکن وہ برطانیہ میں القاعدہ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے ساتھ اہم رابطہ کار تھے۔ ملزم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ سنہ 2002 میں برطانیہ سے پاکستان آئے تھے اور ان کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ قریبی روابط بن گئے۔
ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم انتہا پسندوں کی مالی امداد کرنے والوں کا سراغ لگانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تاہم یہ رپورٹیں بے بنیاد ہیں کہ زلزلے کے لیئے دی گئی امداد میں سے کچھ حصہ ان لوگوں کے پاس گیا تھا۔