Thursday, 17 August, 2006, 21:17 GMT 02:17 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی سمیت سندھ میں طوفانی بارش کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے، اسمانی بجلی گرنے اور روڈ حادثات میں ایک عورت سمیت چوبیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔
سندھ بھر میں بارش کا سلسلہ سہ پہر کو شروع ہوا جو کئی گھنٹے اور شام تک مسلسل جاری رہا۔
کراچی میں بارش اس وقت شروع ہوئی جب شہر کے طالبعلم اور لوگ اپنے دفاتر سے واپس گھروں کو جا رہے تھے۔ تیز ہواؤں اور طوفانی بارش کے باعث لوگ سڑکوں پر پھنس گئے۔ شہر کے مختلف سڑکوں بشمول اہم شاہراہوں یعنی آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ فیصل پر پانی کھڑا ہو گیا۔ ان بڑی سڑکوں پر ایک سے ڈیڑھ فٹ تک پانی تھا۔
موسلا دھار بارش اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں پھنس گئیں اور ٹریفک جام ہو گیا۔ اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جس میں عورتیں اور بچے شامل ہیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ نیشنل ہائو وے پر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لانڈنھی سے لیکر شہر تک نظر آئیں۔
![]() | |
| کراچی: سڑکوں پر کئی فٹ پانی کھڑا تھا |
شہر میں بجلی کے کرنٹ لگنے اور بارش کی وجہ سے روڈ حادثات میں بارہ سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق شہر کے بعض علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ان کی ایمبولینسیں پانی میں پھنس گئی ہیں اور زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال تک نہیں لے جایا جا سکا جبکہ سڑکوں پر پانی کی وجہ سے رکشا اور ٹیکسی سروس بھی معطل رہی۔
اندرون سندھ میں کھپرو، میرپورخاص، ٹھل، ٹھٹہ، تھرپارکر کے علاقوں میں بارش سے متعلق واقعات میں اموات کی اطلاعات ہیں۔
میرپورخاص ضلع میں ڈگری کے مقام پر سیم کا پانی سمندر میں خارج کرنے کے لیئے بنائے گئے نالے لیفٹ بینک آؤٹ فجل ڈرین میں شگاف پڑنے سے ایک وسیع علاقہ زیر آب آگیا ہے۔