http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 16 August, 2006, 14:44 GMT 19:44 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

صوبائی کابینہ اور سیلاب سے نقصانات

صوبہ سرحد میں مون سون کی حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے صوبہ بھر میں دو سو دس افراد جان بحق اور ایک سو اٹھاون افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مجموعی طور پر دو ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ امدادی کاموں کے لیئے اب تک بائیس کروڑ پینتیس لاکھ روپے سے زائد رقم تقسیم جاچکی ہے۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داؤد زئی نے بدھ کے روز پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعدصحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

اس سے قبل صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ اکرم خان دورانی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صوبائی فلڈ ریلیف کمشنر فضل ربی نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور اب تک کی گئی امدادی سرگرمیوں کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا گیا۔

آصف اقبال نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے اب تک صوبہ سرحد میں دو سو دس افراد ہلاک اور ایک سو اٹھاون زخمی ہوچکے ہیں۔ جبکہ کل اکیس ہزار نو سو ستتر مکانات مکمل یا جزوی طورپر تباہ ہوئے ہیں۔ تین سو سینتس چھوٹی بڑی سڑکوں ، چہتر پلوں اور ایک سو سڑسٹھ واٹر سپلائی سکیموں کو نقصان پہنچاہے جبکہ کل نقصان کا تخمینہ ایک ارب ڈھائی کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کل دو سو دس افراد میں سے دو سو دوافراد کے لواحقین کو چیک دیئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں سیلاب کی وجہ سے کل نو سو اکتیس دکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور ان میں ذخیرہ سامان سیلابی پانی سے تباہ ہوا ہے۔ حکومت نے ان متاثرہ دکانوں کو فی کس پچاس ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو ایک ماسٹر ڈیزازسٹر پلان بھیجا ہے جس پر بائیس ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے لیئے صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور ڈونر ایجنسیاں مل کر فنڈ اکھٹا کریں گی اور اس سلسلے میں وزیر اعلی بہت جلد وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔

آصف اقبال نے بتایا کہ اب تک بحالی اور امدادی سرگرمیاں صوبائی حکومت اپنے وسائل سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلےمیں وفاقی حکومت سے کوئی امداد نہیں لی گئی ہے۔