Wednesday, 16 August, 2006, 08:04 GMT 13:04 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف ایک رٹ درخواست پر حکومت پنجاب سے تئیس اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔
بدھ کے دن لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد اختر شبیر نے رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں پنجاب کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے حافظ سعید کی ایک ماہ کی نظر بندی کے احکامات کو بلا جواز قرار دیا گیا ہے۔
حافظ سعید کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہیں بے بنیاد وجوہ کی بنا پر نظر بند کیا گیا ہے۔ وکیل نے عدالت سے کہا کہ حکومت نے نظر بندی کے حکم میں کہا ہے کہ حافظ سعید ایک شعلہ بیان مقرر ہیں اور وہ معاشرہ کے مختلف عناصر کے ساتھ جلسوں میں انہیں حکومت کے قانونی نظم و نسق کو توڑنے کے لیے اکساتے رہے۔ وکیل نے کہا کہ حکومت نے اس الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ان باتوں کی کوئی جگہ اور وقت بتایا۔
درخواست میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے حافظ سعید کی نظر بندی کے خیر مقدمی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حافظ سعید کو محض بھارتی حکومت کی خوشنودی کے لیئے نظر بند کیا گیا ہے۔
حافظ سعید کو دس اگست کو لاہور میں ان کے گھر پر نظر بند کیا گیا تھا اور ان کی تنظیم کو یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت منسوخ کر دی گئی تھی۔