Tuesday, 15 August, 2006, 13:38 GMT 18:38 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے دس زخمیوں سمیت ستائیس افراد کو ایک نجی ہسپتال سے گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ طالبان جنگجو ہیں ۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ یہ مبینہ طالبان افغانستان سے مختلف اوقات میں کوئٹہ علاج کے لیے پہنچے ہیں۔ آج بعد دوپہر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زرغون روڈ پر ایک نجی ہسپتال پر چھاپہ مار کر ستائیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ان افراد میں سے دس جنگ کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ ان مبینہ طالبان میں دو اہم کمانڈرز شامل ہیں۔ ان طالبان کا تعلق افغانستان کے مختلف علاقوں جیسے قندھار ہلمند اور اورزگان سے بتایا گیا ہے۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ان طالبان کے پاس بین الاقوامی تنظیم کی پرچیاں تھی جن پر تحریر تھا کہ یہ لوگ جنگ میں زخمی ہوئے ہیں اور یہاں افغانستان میں مطلوبہ سہولیات نے ہونے کی وجہ سے انھیں کوئٹہ بھیجا جا رہا ہے۔
کوئٹہ سے گزشتہ ماہ کوئی ڈیڑھ سو افغانیوں کو گرفتار کرکے افغانستان حکومت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ سلمان سید نے کہا تھا کہ یہ ڈیڑھ سو مشتبہ طالبان ہیں جنھیں پولیس نے گرفتار کیا ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے سیکرٹری اطلاعات ستار چشتی نے کہا تھا کہ پولیس نے بے گناہ دینی مدارس کے طالبعلموں کو گرفتار کرکے انھیں طالبان کا نام دے دیا ہے۔