Saturday, 12 August, 2006, 12:36 GMT 17:36 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
سرحد ایوانِ صنعت وتجارت کے صدر غضنفر بلور نے کہا ہے کہ امریکہ نے حکومت پاکستان کے تعاون سے قبائلی اور ملحقہ علاقوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے اور ان علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔
سنیچر کو پشاور میں ایک پریس بریفنگ کے دوران سرحد ایوانِ صنعت وتجارت کے صدر نے امریکی حکومت کی ری کنسٹرکشن اپرچونیٹی زونز کے تحت اقتصادی پروگرام کا خیر مقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ نئے صنعتی علاقے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کی ان صنعتوں کی بحالی پر بھی توجہ دی جائے جو بند پڑی ہیں۔
غضنفر بلور نے بتایا کہ ان آر او زیڈز کے قیام کے لیئے انفرسٹراکچر حکومت پاکستان فراہم کرے گی جب کہ ان میں تیار کردہ مصنوعات کے لیئے امریکہ کو ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی سہولت حاصل ہوگی۔
غضنفر بلور کا کہنا تھا کہ امریکی ماہرین کی دو ٹیموں نے پشاور سمیت صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں پر ری کنسٹرکشن اپرچونیٹی زونز یا (آر او زیڈز) کے قیام کا جائزہ لیا۔
پچاس فیصد افرادی قوت قبائلی |
ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی ماہرین پر واضح کردیا کہ جب تک موجودہ انڈسٹریل سٹیٹس کو اپ گریڈ نہیں کیا جاتا تب تک صنعتی زونز کی ترقی ممکن نہیں اور نہ ہی سرمائے کے تحفظ، انفراسٹرکچر کی بحالی اور معاشی خوشحالی قائم ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان صنعتوں میں پچاس فیصد افرادی قوت قبائلیوں پر مشتمل ہوگی جس سے قبائلی علاقوں میں غربت و بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ان صنعتوں میں ماربل، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جِمز اور جیولری، الات جراحی اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات تیار کرنے والی صنعتیں شامل ہوں گی۔