http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 12 August, 2006, 15:31 GMT 20:31 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر ایجنسی تشدد میں تین ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجسی کے دور افتادہ مقام تیرہ میں دو مذہبی گروہوں لشکر اسلامی اور انصار الااسلام کے مابین لڑائی میں تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ ان تازہ جھڑپوں کے بعد علاقے میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔

باڑہ اسلامی مرکز پر حکومتی کنٹرول

ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ لشکر اسلامی نے اپنی مخالف تنظیم انصار اسلام کے دو حامیوں کو باڑہ سے اغوا کر لیا ہے۔

پشاور میں سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ لڑائی سنیچر کو شلوبر قمبر خیل کے علاقے غنڈی میں اس وقت شروع ہوئی جب ایک گروپ انصار الاسلام نے مخالف تنظیم لشکر اسلامی کے ایک مورچے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

مرنے اور زخمی ہونے والوں میں تمام افراد کا تعلق مذہبی تنظیم لشکر اسلامی سے بتایا جاتاہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی قبائل نے دونوں گروپوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کرادی ہے جس کے بعد دونوں طرف سے فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

ایک سرکاری اہل کار نے بتایا کہ حکومت نے پہلے بھی ان دو گروپوں کے مابین مصالحت کرانے کے لیئے جرگے بھیجے تھے لیکن وہ ناکام ہوگئے تھے۔

تاہم مقامی انتظامیہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرانے کےلیئے ایک دو روز میں جرگہ ترتیب دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسلحہ اور ہلاکتیں
 گزشتہ روز شروع ہوئی جس میں اب تک پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا آزادانہ استعمال کیا جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے
 

ادھر علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لڑائی گزشتہ روز شروع ہوئی جس میں اب تک پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا آزادانہ استعمال کیا جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ علاقے میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے اور بھاری اسلحے کی آزادانہ استعمال کی وجہ سے علاقے کے لوگ گھروں میں محبوس ہوکر رہ گئے ہیں۔

واضع رہے کہ لشکر اسلامی اور انصار الااسلام کے حامیوں کے مابین گزشتہ چند مہینوں سے کئی بار خوں ریز جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں دونوں جانب سے درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ ان شدت پسند تنظیموں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ دونوں تنظیموں پر علاقے میں مسلح گشت کرنے اور لوگوں کو اسلامی قوانین کے تحت سزائیں دینے کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔