http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 10 August, 2006, 13:57 GMT 18:57 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لبنان کی پاکستان سے مدد کی اپیل

اسلام آباد میں قائم لبنان کے سفارتخانے کے انچارج خالد محمد نے پاکستان کی حکومت اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان فراہم کریں۔

لندن میں لبنان جنگ کے خلاف مظاہرہ
قرارداد: متن پر امریکہ فرانس متفق
خصوصی ضمیمہ: لبنان پر حملے

جمعرات کو اپنے سفارتخانے میں ’مسلم ہینڈز‘ نامی امدادی تنظیم کے عہدیداروں کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت سے ان کا ملک اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں امدادی سامان کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حملے کو ایک ماہ ہورہا ہے اور اب تک ایک ہزار شہری مارے جاچکے، چار ہزار زخمی ہیں جب کہ دس لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔

نیوز کانفرنس میں ان سے عالمی دنیا کے دوہرے معیار اور اسلامی دنیا کی سرد مہری کے بارے میں بھی سوالات ہوئے لیکن انہوں نے اس کے متعلق تنقید سے احتیاط اختیار کی تاہم اسرائیلی حملے کے خلاف عالمی اور اسلامی ممالک کے موقف اور اقدامات پر اطمینان بھی ظاہر نہیں کیا۔

بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے
 بیروت کے ہوائی اڈے سمیت ستر کے قریب پل، بڑی عمارتیں اور سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے
 

خالد محمد نے کہا کہ انہیں اطمینان اس وقت ہوگا جب اسرائیلی حملے بند ہوں گے کیونکہ ان کے بقول آئے دن معصوم بچے اور خواتین ہلاک ہورہی ہیں۔ان کے مطابق اسرائیل نے لبنان کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور امدادی سامان کی فراہمی مشکل ہورہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیروت کے ہوائی اڈے سمیت ستر کے قریب پل، بڑی عمارتیں اور سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے۔ ان کے محتاط اندازے کے مطابق صرف تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی مالیت دو ارب ڈالر سے زائد ہے۔

انہوں نے پاکستان حکومت کی جانب سے امدادی سامان کے بھرے مال بردار فوجی طیارے بھجوانے پر حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا لیکن انہوں نے زور دیا کہ انہیں کھانے پینے کی مزید اشیاء، ادویات، بستراور خیموں کی شدید ضرورت ہے۔