Monday, 07 August, 2006, 10:03 GMT 15:03 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم فی الحال کسی تازہ جانی نقصان کی اطلاع کہیں سے بھی نہیں ملی ہے۔
حکام نے کسی حادثے کی خطرے کے پیش نظر پشاور کے قریب خیالی دریا پر قائم دو میں سے ایک پل کو ٹریفک کے لیئے بند کر دیا ہے۔
ادھر مردان میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بارشوں سے متاثرہ افراد میں امداد کی تقسیم پیر کو شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس میں انہیں خوراک اور طبی امداد مہیا کی جائے گی۔
اس سے قبل حکام کے مطابق مردان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ایک پل منہدم ہونے سے سیلابی پانی میں بہہ جانے والے افراد میں سے چالیس کی لاشیں نکالی جا سکی تھیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں تاخیر کے باعث متاثرہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا تھا۔
کلپانی نامی نالے پر واقع پل ٹوٹنے سے کم سے کم سو افراد پانی میں بہہ گئے تھے۔
ٹوٹے ہوئے پل کے آس پاس پاک فوج کے کچھ جوان دکھائی دیئے اور اس کے علاوہ وہاں پر کالعدم مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے رضاکار بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
تقریباً دس فٹ اونچے اس پل کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جبکہ حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تاحال پل کے ملبے تلے لوگ پھنسے ہوئے ہیں تاہم لاپتہ ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کسی بھی ذریعہ سے معلوم نہیں کی جا سکی۔
پل ٹوٹنے کے واقعہ میں بچ جانے والے چالیس سالہ خان بہادر نے بی بی سی کو بتایا کہ’ کلپانی نالہ میں جب پانی کی سطح بلند ہورہی تھی تو اس وقت پل کے اوپر مجھ سمیت کوئی ستر یا اسّی کے قریب لوگ کھڑے پانی کا نظارہ کر رہے تھے کہ اچانک پل پانی میں بیٹھ گیا جس سے وہاں پر موجود تمام لوگ پانی کے اندر بہہ گئے‘۔
![]() | |
| مردان میں سینکڑوں گھر اور دوکانیں سیلابی پانی میں بہنے کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں |
ادھر مسلسل بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے مردان شہر میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں گھر اور دوکانیں سیلابی پانی میں بہنے کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں۔ مردان شہر کے اندر داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے یہاں سے سیلابی ریلا گزرا ہو۔ ہر طرف پانی اور ٹوٹے ہوئے گھر دکھائی دیتے ہیں۔ علاقے میں بدستور خوف کی فضا ہے اور شہر میں سیلاب کی افواہوں کا دور دورہ ہے۔
جن لوگوں کے گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں وہ اپنا ٹوٹا ہوا سامان اکھٹا کرنے میں مصروف ہیں جبکہ خواتین اور بچوں کو قریبی سکولوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مردان شہر کے اندر واقع تمام سرکاری سکول سیلاب سے متاثرہ افراد سے بھرگئے ہیں۔ مردان شہر کے اندر کوئی حکومتی امدادی کارکن نظر نہیں آ رہا ہے تاہم ہر جگہ مقامی لوگ خود اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد نے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی بےحسی پر شدید تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جو لوگ بےگھر ہوئے ہیں ان کی بحالی کے لیئے فوری اور ٹھوس اقدامات کیئے جائیں۔
![]() | |
| مردان کے ایک تاجر کے مطابق حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے |
انہوں نے بتایا کہ’علاقے میں خوف کی فضا ہے، ہلاکتیں ہوئی ہیں، عوام کا بھاری پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ لوگوں کو آزمائش کی اس گھڑی میں ہمدردی کی ضرورت ہے، حوصلے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ زندگی شروع کریں لیکن افسوس کہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے‘۔