ذوالفقار علی
بی بی سی ، اردو ڈاٹ کام ، مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی نئی سولہ رکنی کابینہ نے پیر کو پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں حلف اٹھایا۔
جولائی میں ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جیتنے کے نتیجے میں مسلم کانفرنس برسراقتدار میں آئی لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حزب مخالف کی لگ بھگ تمام جماعتیں ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہیں۔
کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی کے کل انچاس میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین کی تعداد اکتیس ہے اور ان میں سولہ کو وزیر اور ایک مشیر بنایا گیا۔ نئی حکومت زلزے کے نو ماہ بعد قائم ہوئی ہے اس لیئے اس میں زلزلہ زدگان کی بحالی اور تعمیر نو کی وزارت بھی شامل کی گئی ہے۔
حزب مخالف کی جماعتوں نے کابینہ کی تعداد پر بھی اعتراض کیا ہے اور چار دینی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقے غریب اور پسماندہ ہیں اور اتنی بڑی کابینہ اس علاقے کی عوام پر بوجھ ہے لیکن نئی حکومت اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ زلزہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کے پیش نظر یہ وقت کی ضرورت تھی۔ حزب مخالف کی بعض جماعتوں نےنئی کابینہ کی طرف سے اسلام آباد میں حلف اٹھائے جانے کو بھی تینقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان جیسے بھارت |
حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کشمیر کے اس علاقے کی کابینہ نے علاقے کے دارلحکومت مظفرآبادکے بجائے اسلام آباد میں حلف اٹھایا۔
متحدہ مجلس عمل اور بعض اور حزب مخالف جماعتیں یہاں تک کہتی ہیں کہ لائن آف کنڑول کے اس جانب کشمیریوں کی حکومت سازی کا حق اسلام باد نے اسی طرح چھینا جس طرح ان کے کہنے کے مطانق لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت چھینتا آرہا ہے۔
حزب مخالف کی تمام جماعتیں یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ عبوری حکومت کے زیر نگرانی دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
نئے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے گذشتہ ماہ اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور وہاں ہونے والے انتخابات پر سوال اٹھائے تھے لیکن اب ان کو خود اسی انداز کی تنقید سامنا ہے۔