Wednesday, 02 August, 2006, 12:35 GMT 17:35 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستانی پنجاب میں ان دو لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے جنہیں اپنے ہی والدین اور دو بھائیوں کے قتل کے الزام کا سامنا تھاجب کہ ایک دوسرے شہر میں تین شادی شدہ عورتوں کو ان کے سگے رشتے داروں نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔
ان دونوں لڑکیوں کو ایک سال قبل اپنے والدین اور دو بھائیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھاکہ انہوں نے اپنے والدین اور دو بھائیوں کو نشہ آور گولیاں دے کر بے ہوش کیا اور پھر کلہاڑی کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔
ستمبر سن دو ہزار پانچ میں ہونے والے اس قتل کے بارے میں پولیس نے کہا تھا کہ لڑکیوں کو اپنی والدین کی بدسلوکی پر رنج تھا اور یہ غصہ بھی تھا کہ ان کے روّیے کی وجہ سے ایک بہن کا رشتہ نہیں ہوسکا۔
ایک سال قبل ان مقتول لڑکیوں کےچچا منوراقبال نےان کےخلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور وہ جیل چلی گئی تھیں اب چند ہفتے پہلے وہ ضمانت پر رہا ہوئی تھیں۔
ملکوال کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک محمد اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کی ضمانت ہوئی تو ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور ایک دور کا رشتہ دار محمد انار انہیں اپنے ساتھ لیے گیا اور صبح وہ دونوں بہنوں کو اپنی موٹر سائیکل پر عدالت لے جا رہا تھا جب انہیں راستے میں ہلاک کر دیا گیا۔
ڈی ایس پی نے بتایا کہ بدھ کی صبح قتل ہونے والی ان لڑکیوں کے قتل کاالزام ان کے اسی چچا منور اقبال پر ہے جس نے ان کے خلاف چوہرے قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
بہن، بھابی اور بھتیجی |
فیروزوالہ سرکل پولیس کے ایک اہلکار محمد اشفاق نے بتایا کہ اس قتل کے الزام میں دو سگے بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے آلہ قتل چھری برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی زنیب بی بی ان دونوں ملزمان کی حقیقی بہن جبکہ رسولاں بھابھی اور تسنیم بھتیجی تھی۔
پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین کو غیت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔