Monday, 31 July, 2006, 12:01 GMT 17:01 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ میں سنیچر سے جاری موسلا دھار بارش نے معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور سات بچوں سمیت سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مجموعی طورپر سولہ افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ جبکہ ریلوے پل بہہ جانے کی وجہ سے کراچی کا ملک سے بذریعہ ریل رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
شاہراہ فیصل پر واقع ایک ہوٹل میں کرنٹ لگنے سے ہوٹل کا ایک ملازم ہلاک ہو گیا۔ قائد آباد میں ایک مسافر بس سے اترتے ہوئے پھسل گرگیا، جسے پیچھے سے آنے والی تیز رفتار بس نے کچل دیا۔ ماڑی پور میں ایک نوجوان موٹر سائیکل پھسلنے سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔
سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث بجلی کے کرنٹ لگنے اور گاڑیوں کے ٹکرانے یا پھسلنے سے چھ افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
![]() | |
| بارش سے شہر کا نظام درہم برہم ہو گیا |
کراچی کے قریب ملیر ندی میں پانی کا بہاؤ سولہ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کے باعث گڈاپ کے علاقے میں زیر تعمیر ڈیم اور مشینری پانی میں بہہ گئی۔
کراچی سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر جنگشاہی اور دھابیجی ریلوے اسٹیشن کے درمیان ریلوے پل برساتی نالے کے بہاؤ میں بہہ گیا جس کے بعد کراچی سے اندرون ملک جانے والی ریل ٹریفک بند ہوگئی اور گیارہ ریل گاڑیوں کی روانگی معطل کر دی گئی ہے۔ جو پیر کی سہ پہر تک بحال نہیں ہوئی تھی۔
ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ رن پٹیانی کے پاس پل کی تعمیر کے لئے فوج کی مدد طلب کرلی گئی ہے۔
کراچی جانے والی ٹرینوں کو حیدرآباد اور کوٹری کی اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے۔ ٹرینوں کی آمدو رفت بند ہوجانے کے بعد ہزاروں مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کینٹ اسٹیشن پر مسافروں نے عملے پر پتھراؤ بھی کیا۔ جبکہ حیدرآباد میں کراچی جانے والے مسافروں کو کرایہ واپس کر دیا گیا۔
![]() | |
| بارش سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا |
لاڑکانہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق موہن جو دڑو کے قدیم آثار کی سائٹ زیرِ آب آگئی ہے۔ جس سے ان آثار قدیمہ کو نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ مزید دو دن تک جاری رہے گا۔