Sunday, 30 July, 2006, 09:53 GMT 14:53 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کی زندگی پر بننے والی فلم کی شوٹنگ کی اجازت نہیں دی اور پولیس کا کردار ادا کرنے والے چار محافظوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی گروہوں سے متعلق ایک خبر پر کام کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے بعد میں ان کے قتل کا انکشاف ہوا تھا۔
ہالی وڈ کے نامور اداکار بریڈ پٹ اس فلم ’اے مائٹی ہارٹ‘ کے پروڈیوسر ہیں جبکہ مائیکل ونٹر باٹم نے اس فلم کے ڈائریکٹر ہیں۔ فلم کی کہانی ڈینیئل پرل کی اہلیہ میرینی پرل کی کتاب سے لی گئی ہے جس میں میرینی نے پاکستان میں پیش آنے والے واقعات اور اپنے شوہر کی زندگی اور شخصیت کو سمیٹا ہے۔ فلم میں میں میرینی کا کردار انجیلینا جولی ادا کریں گی۔
کراچی میں سینچر کے روز فلم کی ٹیم سندھ ہائی کورٹ کے سامنے شوٹنگ میں مصروف تھی کہ پولیس نے پہنچ کر انہیں شوٹنگ سے روک لیا اور پولیس وردی پہنے ہوئے چار محافظوں کو حراست میں لے لیا۔
وردی کا غلط استعمال |
پولیس کے مطابق فلم کی ٹیم نے نجی سکیورٹی محافظوں کو پولیس وردی پہنا کر شونٹگ کی، جبکہ ان کے پاس سرکاری وردی کے استعمال کا بھی کوئی اجازت نامہ نہیں ہے اس لیئے سکیوٹی گارڈز پر پولیس وردی کے غلط استعمال کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2002 وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل پاکستان کے شہر کراچی میں مذہبی گروہوں سے متعلق ایک خبر پر کام کے دوران لاپتہ ہو گئے۔
بعد میں 21 فروری کو امریکی ایف بی آئی کے حکام کو ایک وڈیو کیسٹ موصول ہوئی جس میں ڈینیئل پرل کو قتل ہوتا ہوا دکھایا گیا تھا۔