Saturday, 29 July, 2006, 00:34 GMT 05:34 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے دو اتحاد، اے آرڈی اور ایم ایم اے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر باضابطہ طور پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں تاریخ کا اعلان دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔
ای
اجلاس کے بعد مخدوم امین فہیم، مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد نے پریس بریفنگ میں عدم اعتماد کی تحریک پر اتفاق کا اظہار کیا۔
فضل الرحمان نے بتایا کہ اے آرڈی نے گزشتہ روز رابطے کا آغاز کیا تھا، اور مسلم لیگ کے رہنما اقبال جھگڑا نے قاضی حسین سے اور ان سے ملاقات کی جس کے بعد مخدورم امین فہیم کا رابطہ ہوا۔
طریقۂ کار اور حکمت عملی |
انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا ہماری تجویز ہے کہ اسمبلیوں کے باہر ہم سب ملکر کر مشترکہ اجتماعات کریں، اسمبلی کے اندر بھی ہمار اقدام متحدہ اور مشترکہ ہونے چاہیں۔
مخدوم امین فہیم نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ طور اور اتفاق رائے کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ ان کے مطابق اکتیس تاریخ ہماری ڈیڈ لائین ہے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا اگست کوگذرنے نہیں دینگے۔
قاضی حسین احمد کہنا تھا کہ ہم رابطہ مہم کی تحریک شروع کر چکےہیں جمعہ حیدرآباد میں جلسہ تھا ، اب کوئٹہ جا رہے ہیں جبکہ کراچی میں بھی جلسہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایم ایم اے کی جانب سے چودہ اگست کو یوم نجات منایا جائے گا مینار پاکستان لاہور میں جلسہ ہوگا۔ جب کہ چھ ستمبر کویوم دفاع کے موقعے پر راولپنڈی میں جلسہ کیاجائے گا۔
مخدوم امین فہیم نے ایم ایم اے کی رابطہ مہم کی حمایت کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں جمہوریت پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ چودہ اگست جمہوری دن ہے اس پر سارے پاکستانیوں کا حق ہے اس پر ہم سب متفق ہیں۔
جب اپوزیشن کے رہنماؤں سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انہیں کسی قوت کی آشیرواد حاصل ہے تو قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ وہ اللہ کو گواہ بناکر بتاتے ہیں کہ انہوں نے کسی سازش کے تحت کبھی تحریک نہیں چلائی جو بھی کیا ہے وہ ضمیر کے مطابق اپنا فرض پورا کرنے کےلیئے کیا ہے۔
چودہ اگست کو یوم نجات |
ایم کیو ایم ے بارے میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی اپنی صفوں کا معاملا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ انہوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے نہ ہی ہم ان سے رابطہ کریں گے۔