Wednesday, 26 July, 2006, 04:43 GMT 09:43 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں منگل کے روز ایک غیر ملکی این جی او کی گاڑی میں بم دھماکے میں دو طلبہ سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیٹکل تحصیلدار ایف آر کوہاٹ اسماعیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ رسپانس انٹرنیشنل یو کے نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی ایک پک آپ گاڑی میں ہوا جو درہ بازار کے اندر ایک ہائی سکول کے ساتھ کھڑی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں ڈرائیور سمیت چار افراد زخمی ہوئے تاہم دو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مقامی ہسپتال سے فارغ کردیا گیا جبکہ دیگر دو کو علاج کے لیئے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اسکی آوازیں دور تک سنی گئیں جبکہ گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔
تحصیدار نے بتایا کہ این جی او کے اہلکار درہ آدم خیل کے بازار میں واقع گورنمنٹ ہائی سکول میں بچوں کے صحت سے متعلق لیکچر دے رہے تھے کہ اچانک باہر کھڑی ان کی گاڑی میں دھماکہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ این جی او کے اہلکاروں نے ایف آر کوہاٹ کے انتظامیہ سے درہ آدم خیل آنے کے سلسلے میں اجازت نہیں لی تھی اور نہ ہی اس بارے میں انہیں پہلے کوئی اطلاع دی گئی تھی۔
مقامی لوگوں کے مطابق زخمیوں ہونے والوں میں گورنمینٹ ہائی سکول ایف آر کوہاٹ کے دو طلبہ بھی شامل ہیں۔
اس سلسلے میں پشاور میں رسپانس انٹرنیشنل یو کے کے پراجیکٹ منیجر افضل حیات خان نے رابط کرنے پر انتظامیہ کے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ انکی ٹیم بغیر اجازت کے ایف آر کے علاقے میں داخل ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’یہ ممکن ہی نہیں کے مقامی انتظامیہ کے اجازت کے بغیر درہ آدم خیل جیسے حساس علاقے میں کوئی غیر سرکار ی تنظیم کام کرے‘۔
پراجیکٹ منیجر کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ آجکل قبائلی علاقوں میں بچوں کے صحت کے حوالے سے ایک پراجیکٹ پر کام کررہا ہے۔
ادھر صوبہ سرحد کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں گزشتہ رات ایک بم پھٹنے سے دو خواتین شدید زخمی ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ گھریلو ساخت کا بم تھا جو نامعلوم افراد نے محلہ روچین وال میں غیاش علی شاہ نامی شخص کے گھر کے ساتھ نصب کررکھا تھا۔ دھماکے کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی۔