Wednesday, 26 July, 2006, 08:13 GMT 13:13 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی جیلوں میں قتل کرنے کے الزام میں سزا یافتہ تین افراد کو بدھ کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں۔
منگل کو ضلعی جیل جہلم میں تین اور میانوالی میں ایک شخص کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ یوں دو دنوں میں پنجاب میں سات افراد کو سزائے موت دی گئی۔
گزشتہ ایک ماہ میں پنجاب میں قتل اور جنسی زیادتی کے جرم میں سزا پانے والے کم سے کم اٹھائیس افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
فیصل آباد کی ضلعی جیل کے سپرنٹنڈنٹ حبیب الرحمن نے بتایا کہ بدھ کی صبح ساڑھے چار بجے جلاد صادق مسیح نے پینتیس سالہ فرخ شہزاد کو پھانسی دی۔
جیل افسر کے مطابق تھانہ ٹھیکری والا کے ایک گاؤں کے رہائشی فرخ پر یہ جرم ثابت ہوا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست عید حسین سے جھگڑا ہونے پر انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
جیل حکام کے مطابق فرخ نے پھانسی سے پہلے کہا کہ ان کے والد کو ان کے مخالفین نے قتل کروایا۔
گوجرانوالہ سینٹرل جیل میں رفیق بلا اور عبدالرشید کو صبح ساڑھےچار بجے ایک ساتھ تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ گوجرانوالہ جیل میں شوکت علی نے بتایا کہ ان دونوں کی عمریں چالیس اور پینتالیس کے درمیان تھیں۔ وہ شہر کے محلہ سلامت پورہ کے رہنے والے تھے اور غریب لوگ تھے۔
ان دونوں کو انیس سو ترانوے میں ایک لڑائی میں چھریوں اور خنجروں سے وار کرکے دو افراد محمد عاشق اور اعجاز کو قتل کرنے کے جرم میں سزائےموت ہوئی تھی جو سپریم کورٹ تک نے برقرار رکھی۔ جیل افسر کے مطابق ان دونوں نے آخری وصیت میں کہا کہ لوگ غصہ اور لڑائی جھگڑے سے گریز کریں۔
![]() | |
| پنجاب میں کم سے کم اٹھائیس افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے |
ادھر اسلام آباد سے نامہ نگار نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ محمد ارشد کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو تین اگست کو پھانسی دینے کے لیے ’بلیک وارنٹ‘ جاری کردیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مرزا طاہر حسین اٹھارہ برسوں سے جیل میں ہیں۔ ان کی سزا پر عمل درآمد عین وقت پر دو بار پہلے ملتوی کیا جاچکا ہے۔