http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 25 July, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’جرنیلوں کا مشورہ غیر اہم ہے‘

پاکستان میں سیاست سے فوج کا کردار ختم کرنے کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کو ان کے ساتھی جرنیلوں سمیت بعض دانشوروں، صحافیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے لکھے گئے خط کے متعلق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ’خط اچھا ہے لیکن غیر اہم ہے کیونکہ اس میں متفرق باتیں ہیں‘۔

مشرف کو لکھے گئے خط کا مکمل متن
مشرف وردی اتار دیں
منگل کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سات ریٹائرڈ جرنیلوں سمیت جن افراد نے یہ خط لکھا ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف کے باوردی صدر رہنے سمیت تمام اقدامات دستور کے عین مطابق ہیں۔

صدر، وزیراعظم، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو چند روز قبل بھیجے گئے خط میں مختلف الخیال افراد نے سفارش کی تھی کہ ملک میں پائی جانے والی سیاسی افراتفری ختم کرنے کے لیے فریقین بات چیت شروع کریں اور مصالحت پیدا کریں۔

خط لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈیڑھ سال کی مشاورت کے بعد ایک متن پر متفق ہوئے۔

محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے خط میں حکومت سے زیادہ حزب مخالف پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔

اس خط کا حزب مخالف کی بیشتر جماعتیں خیر مقدم کر چکی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوج کا سیاسی کردار ختم کریں۔

خط کے بارے میں جہاں سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے اخبارات میں اس کے بارے میں اداریے تحریر کیےجا رہے ہیں جبکہ کچھ کالم نگاروں نے بھی اس خط کا ذکر اپنے کالموں میں کیا ہے۔

’صدر کو یاد دہانی، کے عنوان سے ڈان نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ اس خط میں کوئی نئی بات تو نہیں اور پہلے سے واضح معاملات پر بات کی گئی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ اپیل کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کل تک اِسی اسٹیبلشمینٹ کا حصہ تھے اور فوجی و سول آمیزش میں ان کی مدد کرتے رہے۔

اس خط کا بینظیر بھٹو کی جانب سے خیر مقدم کرنے اور یہ کہنے کہ ’وہ بھی ان ہی معاملات پر ویسے ہی سوچ رہی تھیں، کا ذکر کرتے ہوئے ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں سوال اٹھایا ہے کہ بینظیر نے ایسے کیوں کہا؟

اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سمجھوتے کی آس میں ہیں اور یوں مشترکہ حزب مخالف کی تحریک کا زور کم کر رہی ہیں