http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 21 July, 2006, 17:34 GMT 22:34 PST

ایوب ترین
بی بی سی پشتو سروس، کوئٹہ

’500 بگٹیوں نے ہتھیار ڈال دیے‘

بلوچستان کے سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کے چار اہم کمانڈوز سمیت تقریباً 500 مسلح افراد نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

کوئٹہ میں حکومتِ بلوچستان کے ترجمان کے مطابق مسلّح قبائل کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے عمل سے نواب اکبر بگٹی عملاً کمزور ہو چکے ہیں۔ لیکن بگٹی قبیلے کے سربراہ اکبر بگٹی کے ترجمان نے حکومتی دعووں کو جھوٹ پر مبنی پراپیگینڈا قرار دیا ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں دو مختلف تقریبات میں بگٹی قبیلے کے تقریباً 500 مسلّح افراد نے اپنے آپکو اس عہد کے ساتھ حکومت کے سامنے غیرمسلّح کیا کہ وہ آئندہ بلوچستان میں پاکستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی کاموں کی مخالفت نہیں کریں گے اور نہ ہی حکومتی فوجوں پر حملہ کریں گے۔

کوئٹہ میں حکومتِ بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی کے مطابق حکومت سے دوبارہ آ ملنے والے ان بگٹی قبائل کو سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بسایا جائے گا۔ انہیں روزگار دلانے کی خاطر ان میں مال مویشی تقسیم کیے جائیں گے۔ اسکے علاوہ کچی کینال کے مکمل ہونے سے ڈیرہ بگٹی میں 150 ایکڑ زمین زیرِکاشت آ جائے گی جس سے ہزاروں بگٹیوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

حکومتی ترجمان نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر مری کے علاقے میں روپوش ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب مری اتحاد نے کوئٹہ میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعے کے روز بھی کولوکہان کے علاقے میں پاکستانی افواج نے بمباری کی ہے جس سے چند لوگوں کے زخمی ہونے کے ساتھ درجنوں کی تعداد میں مال مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم کوئٹہ میں پاکستانی فوج کے ترجمانی ادارے آئی ایس پی آر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہں۔