Wednesday, 19 July, 2006, 14:19 GMT 19:19 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب پولیس نے جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ میں آٹھ افراد کو قتل کرنے کے الزام میں دو افراد کوگرفتار کیا ہے جن کا تعلق دو کالعدم مذہبی تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔
گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دونوں ملزموں کو عدالتی تحویل پر جیل بھجوادیا ہے جہاں ان کی شناختی پریڈ بھی عمل میں لائی جائے گی۔
پنجاب کے ضلع منڈی بہاء الدین کے قصبے مونگ میں گزشتہ سال اکتوبر میں جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ بیت الذکر پر فائرنگ میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی سہہ پہر پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری کی موجودگی میں دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔
انسداد دہشت گردی کے جج مستقیم احمد نے انہیں عدالتی تحویل پر بھیجتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت کی کہ ان افراد کو الگ رکھا جائے تاکہ شناختی پریڈ سے پہلے کوئی انہیں دیکھ نہ پائے۔
عدالت سے باہر تفتیشی افسر سب انسپکٹر ریاض حسین نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ایک ملزم منڈی بہاء الدین اور دوسرا تتلے عالی کا رہائشی ہے اور ان کے بقول دونوں کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے۔
اس سے قبل پولیس ایک دوسرے نوجوان عامر محمود کو اسی مقدمے میں گرفتار کر کے چالان کر چکی ہے تاہم پانچ روز قبل عدالت نے اس نوجوان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا تھا۔
پاکستان کی پارلیمان نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے جماعت احمدیہ کے اراکان کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا تب سے انسانی حقوق کی تنظیمیں جماعت احمدیہ سے رواء رکھے گئے سلوک کی شکایت کرتی آئی ہیں۔