Monday, 10 July, 2006, 18:13 GMT 23:13 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کو انچاس رکنی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں کوئی ڈیڑھ درجن سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ چار دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس بھی حصہ لے رہی ہے ۔ انتخابات میں امن امان قائم رکھنے کے لیئے آٹھ ہزار پاکستانی فوجیوں سمیت پولیس اور پیرا ملڑی فورسز کے کوئی بیس ہزار اہلکار تعینات کیئے گئے ہیں۔
خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں کو ان انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیاگیا۔
کشمیر کے اس علاقے کے الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیموں کے کوئی پچاس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اس لیئے مسترد کیئے کہ انہوں نے متنازعہ ریاست کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے نظریئے پر یقین رکھنے کا حلف نامہ داخل نہیں کرایا تھا۔ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔
50 کے کاغذات نامزدگی مسترد |
کشمیر کے اس علاقے میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں کوئی سترہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں اور کوئی چار سو امیدوار میدان میں ہیں جن میں لگ بھگ نصف آزاد ہیں۔
ان انتحابات میں حصہ لینے والی اہم تنظیموں میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے علاوہ حزب مخالف کی جماعتیں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اور پیپلز مسلم لیگ کے علاوہ چار دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل شامل ہیں۔ اگرچہ کشمیر کے اس علاقے میں دینی جماعتوں کو ماضی میں کوئی زیادہ پذیرائی نہیں ملی لیکن اس بار مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی انتخابات میں کارکردگی اس لیئے قدرے بہتر ہوسکتی ہے کیوں کہ انہوں نے زلزے میں امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔