Monday, 10 July, 2006, 07:59 GMT 12:59 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان
پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کا ایک فوکر طیارہ ملتان کے نزدیک گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
اس حادثے میں طیارے میں سوار اکتالیس مسافر اور عملے کے چار ارکان ہلاک ہو گئے۔
اگر آپ اس حادثے کے عینی شاہد ہیں تو دیئے گئے ای میل فارم کی مدد سے ہمیں اپنے تاثرات لکھ بھیجیئے۔
ڈی سی او ملتان افتخار بابر نے حادثے میں پنتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نمائندے اعجاز مہر کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سول ایوی ایشن کے مقامی حکام کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 688 نے دوپہر کے بارہ بجے ملتان ایئر پورٹ سے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ اس کے انجن میں آگ لگ گئی۔
جہاز کے پائلٹ کیپٹن حامد کو کنٹرول ٹاور سے فوری اطلاع دی گئی اور تین کلو میٹر کے فاصلے پر پائلٹ نے جہاز دوبارہ ایئر پورٹ کی طرف موڑنے کی کوشش کی تو وہ ملتان شہر کے علاقے سورج میانی کے محلہ راج گڑھ کےقریب واقع کھیتوں میں گرگیا۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ نے پوری طرح طیارے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا لیکن اس دوران کسی بھی مسافر کے زندہ بچ رہنے کی امید باقی نہیں رہی تھی۔
پی آئی اے کے بکنگ کاؤنٹر کے عملے کے مطابق طیارے میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے دو جج جسٹس نذیر صدیقی اور جسٹس نواز بھٹی، پاک فوج کے بریگیڈئر فرحت، بریگیڈئر آفتاب، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نصیر خان اور معروف نیورو سرجن ڈاکٹر افتخار راجہ بھی سوار تھے۔
عزیز رضوی، کراچی:
میں اس واقعہ کا عینی شاہد تو نہیں پر اس جہاز سے کئی دفعہ لاہور اور ملتان کے درمیان سفر کر چکا ہوں۔ میں ڈاکٹر افتخار راجہ کو ذاتی طور پر جانتا تھا۔ ان کی موت پاکستان میں نیورو سرجری کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ یہ جہاز بہت کی پرانا تھا اور میں جب بھی اس سے سفر کرتا تو بہت گھبرایا ہوا رہتا تھا۔ اب تو میں اس جہاز کے بدلے ڈیوو بس سے سفر کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ خبر سن کر بہت افسوس ہوا۔۔۔