Sunday, 09 July, 2006, 09:50 GMT 14:50 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے پورے ملک سے حدود آرڈیننس کے تحت قید خواتین کے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
شریعت کورٹ کے چیف جسٹس حاذق الخیری نے پرنسپل بینچ سمیت کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے رجسٹراروں کو تحریری طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ صدارتی حکمنامہ کی روشنی میں قتل اور دہشتگردی کے مقدمات کے علاوہ خواتین پر دائر مقدمات کے تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔
صدارتی آرڈیننس پر فوری عملدرآمد کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا مگر قانونی کارروائی کی وجہ سے پیر سے خواتین کی رہائی پر عملدرآمد شروع ہوگا۔
![]() | |
| رہائی پانے والی خواتین کو وکلا اور فنی تربیت بھی دی جائے گی |
دوسری جانب سندھ میں محکمہ وومین ڈویلپمنٹ کی صوبائی وزیر سعیدہ ملک نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ آزاد ہونے والی جن خواتین کو ان کے اہل خانہ قبول نہیں کریں گے انہیں دارالامان اور این جی اوز کے شیلٹر ہومز میں رکھا جائے گا جہاں ان کو وکلا اور فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
معاشرے میں ان کی آ بادکاری کے بارے میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو کاروبار کے لیئے چھوٹے قرضے فراہم کیئے جائیں گے اس سلسلے میں
خوشحالی بینک اور دیگر مائیکرو فناسنگ بینکوں سے مدد لی جائے گی۔