http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 08 July, 2006, 15:01 GMT 20:01 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

بچوں کاقتل: پولیس اہلکارگرفتار

شیخوپورہ پولیس نے ایک انسپکٹر سمیت ان دو اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے پوسٹ مارٹم ہوجانے کے باوجود گاؤں مانانوالہ کے ایک بچے کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔

ماں کے خط پر سپریم کورٹ کا حکم

پولیس کے خلاف یہ کارروائی مقتول بچے کی بیوہ ماں ممتاز بی بی کے اس خط پر شروع ہوئی جو انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھا تھا اور چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے کر اس خط کو درخواست میں تبدیل کر دیا۔

اب سپریم کورٹ کا فل بنچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ گرفتار اہلکاروں کے خلاف پولیس آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرکے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ لیاگیا۔

خط میں خاتون نے بچوں کے اغواء کا مقصد ان کے جسمانی اعضا گردے اور دل نکال کر فروخت کرنا بیان کیا۔

شیخوپورہ پولیس ایک ملزم شہزاد سے ان وارداتوں کی تفتیش کر رہی ہے۔

یہ ملزم لاہور کے ایک بچے کے اغواء کے مقدمے میں گرفتار تھا اور پولیس نے اسے لاہور کی جیل لا کر جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لیا۔

عدالتی ریکارڈ میں ملزم شہزاد کا لاہور کی پولیس کو دیا گیا وہ بیان بھی شامل ہے جس کے مطابق ملزم شہزاد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے پچیس لڑکوں کے جسمانی اعضا فروخت کرنے کی خاطر انہیں اغواء کرکے قتل کیا۔

پچیس بچوں کے اغوا کا اعتراف
 ملزم شہزاد کا لاہور کی پولیس کو دیا گیا وہ بیان بھی شامل ہے جس کے مطابق ملزم شہزاد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے پچیس لڑکوں کے جسمانی اعضا فروخت کرنے کی خاطر انہیں اغواء کرکے قتل کیا
 

شیخوپور کے ضلعی پولیس افسر نے پچیس افراد کی ہلاکت کے واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزم نے شیخوپورہ پولیس کو ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کو اگر ملزم شہزاد نے کوئی بیان دیا تھا تو وہ ابھی شیخوپورہ پولیس تک نہیں پہنچا البتہ ایس ایس پی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملزم کے خلاف شیخوپورہ میں نوعمر لڑکوں کے قتل کے کم از کم دو مقدمات درج ہیں جب کہ ایک تیسرے قتل کے مقدمے میں وہ پہلے سے لاہور کی جیل میں تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چند سال پہلے سو بچوں کے قتل کا پولیس کو وقت علم ہوا تھا جب بچوں کے مبینہ قاتل جاوید اقبال نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا تھا۔

اب شیخوپورہ کے تازہ واقعہ پر تفتیش جاری ہے اور دو ہفتے کے بعد جب یہ پولیس رپورٹ سپریم کورٹ کے روبرو پیش کی جائے گی تو تب ہی پتہ چل سکے گا کہ پچیس افراد کے قتل کا معاملہ کیا رخ اختیار کرے گا۔