Monday, 03 July, 2006, 15:09 GMT 20:09 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بجلی کے بحران کے سلسلے میں پانی و بجلی کی وزارت، نجکاری کمیشن اور کے ای ایس سی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیئے ہیں۔
جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس افضل سومرو پر مشتمل ڈویزن بینچ دس جولائی کو پہلی سماعت کرے گا۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے کراچی کے شہری باقاعدگی کے ساتھ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کر رہے ہیں مگر بجلی کی فراہمی میں مسلسل تعطل ہے۔
اللہ ہی جانتا ہے! |
درخواست گزار کے مطابق لوگوں کو اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی کسی کا احتساب کیا جاتا ہے۔ اگر شکایت سینٹر پر فون کیا جاتا ہے تو وہاں سے یہ بتایا جاتا ہے کہ ’یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کب بجلی آئےب گی اور کب جائے گی‘۔
انہوں نے کہا ہے کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جس میں غریب لوگ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جو فلیٹوں میں رہائش پذیر ہیں اور لوڈشیڈنگ کے دوران ان فلیٹوں میں رہنا ناممکن ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے گزراش کی ہے کہ تمام فریق ایک ہفتے کے اندر بجلی کے بحران کے اسباب سے عدالت کو آگاہ کریں اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیئے کیا انتظامات کیئے گئے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ کے ای ایس سی کو ہدایت کی جائے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور اگر کی بھی جائے تو اس سے قبل اخبار کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جائے۔
دوسری جانب کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی چیف ایگزیکیٹو افسر فرینک شیرزشمٹ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ واپڈ کی جانب سے ایک سو میگا واٹ اضافی بجلی کی فراہمی سے آدھی مشکلات ختم ہوجائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ موسم گرما میں کراچی میں بجلی کی کھپت بائیس سو سے تئیس سو میگا واٹ ہوتی ہے جس میں ایک ہزار میگا واٹ کی کمی کا سامنا ہے۔
فرینک شیرزشمٹ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اوور لوڈنگ کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اوور لوڈنگ کی باعث کیبل، سوئچ اور گرڈ اسٹیشن گرم ہو کر ٹرپ ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوتا ہے۔
ائر کنڈیشنر اور چوری کی بجلی |
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نجکاری سے قبل کے ای ایس سی میں مجسٹریٹی نظام تھا جو چوری کی روک تھام کے لیئے موثر ہوتا تھا مگر نجکاری کے بعد یہ نظام ختم ہوگیا ہے۔
فرینک شیرزشمٹ نے بتایا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت دو ہزار پندرہ تک کے ای ایس سی بجلی کی پیداوار چوالیس سو کرنے اور فراہمی بہتر کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔