Sunday, 02 July, 2006, 14:15 GMT 19:15 PST
عبدالحئی کاکڑ
پشاور
ایک غیرسرکاری ادارے ایتنو میڈیا نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے دو اضلاع میں گزشتہ چار سالوں کے دوران تقریباً ساٹھ کمسن لڑکیاں ونی کی رسم کی بھینٹ چڑھی ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق کمسن بچیوں کو ونی کرنے کے واقعات میں پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ ایتنو میڈیا نامی یہ تنظیم سورہ کی رسم پر تحقیق اور اس رسم کے خلاف عورتوں میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’ان ساٹھ بچیوں میں سے زیادہ تر کو جرگے نے قتل اور عزت کے نام پر جرائم میں مخالف فریق کے نقصان کی تلافی کی خاطر سوارہ میں دیا ہے۔ کچھ بچیاں پانی کی تقسیم اور جائیداد کی معاملات کو سلجھانے میں سوارہ کی بھینٹ چڑھی ہیں‘۔
ثمر من اللہ نے بتایا کہ انکی تحقیق کے مطابق ان دونوں اضلاع میں تقریبا ستر فیصد لوگ انصاف کی حصول کی خاطر جرگے سے رجوع کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کے بقول انہیں عدالتوں کی بجائے جرگے میں فوری اور سستی انصاف ملتا ہے۔
ثمر من اللہ کا مزید کہنا ہے کہ ونی کی بھینٹ چڑھنے والی زیادہ تر نابالغ بچیوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے جن کے والدین کے پاس نقصان کے ازالے کے لیئے نقد رقم نہیں ہوتی لہٰذا وہ اپنی بچیوں کو قربان کردیتے ہیں۔ ان کے بقول رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئي ہے کہ بعض لوگ اپنی بچیاں ونی نہیں کرنا چاہتے لیکن جرگے اور سماجی دباؤ کی وجہ سے وہ یہ تلخ گھونٹ پی جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’مجھے مردان میں ایک شخص نے رازداری سے کہا کہ آج جرگے میں ان کی آٹھ سالہ بچی سوارہ میں دی جانے والی ہے لہٰذا آپ میری مدد کریں۔ میں نے خود جاکر جرگے میں شرکت کی اور اس لڑکی کو سوارہ ہونے سے بچا لیا‘۔
ایتنو میڈیا کی سربراہ ثمرمن اللہ نے گزشتہ دنوں صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں جرگے کی طرف سے پانچ کمسن بچیوں کو ونی میں دینے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں اعلیٰ عدالت نے جرگے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
پاکستان میں مقامی جرگہ رسم کے مطابق تصفیہ کے دوران کمسن لڑکیوں کو ونی کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے رائج سوارہ اور ونی کی رسم کو گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا پر زیادہ جگہ مل رہی ہے جبکہ سوِل سو سائٹی کی تنظیموں نے بھی اس رسم کیخلاف سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔