Sunday, 02 July, 2006, 02:22 GMT 07:22 PST
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان کی سرحدوں کے باہر قائم شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ اور شدت پسندوں کی مالی امداد بند نہ کی گئی تو افغانستان میں پایا جانا والا عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
بی بی سی کو ایک انٹرویو میں حامد کرزئی نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ شدت پسندوں کے کیمپ کہاں قائم ہیں اور کون شدت پسندوں کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔
حامد کرزئی نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت پاکستان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی طالبان سے رابطے میں ہیں۔
مبصرین کے مطابق جنوبی افغانستان میں طالبان اتحادی فوج کی کارروائیوں میں شدید جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
امریکی حملے کے بعد کابل میں طالبان کی حکومت کے بعد سے اب تک حالیہ دنوں میں افغانستان میں سب سے زیادہ خونریزی ہوئی ہے۔