http://bbc.com.im/urdu/

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان: 50 کے قریب قبائلی رہا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام نے گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں سے پچاس کے قریب قبائلیوں کو رہا کر دیا ہے۔

عارضی جنگ بندی کا اعلان

خیال ہے کہ یہ قدم مقامی طالبان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں خیرسگالی کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

میران شاہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ان قبائلیوں کے خلاف کوئی ٹھوس الزامات نہیں تھے لہذا انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔

رہائی پانے والے مقامی تاجر یا ڈرائیور تھے جنہیں اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت کسی بھی قبیلے کے رکن کے انفرادی عمل کو پورے قبیلے کا عمل تصور کیا جاتا ہے۔

اجتماعی ذمہ داری کا قانون
 رہائی پانے والے مقامی تاجر یا ڈرائیور تھے جنہیں اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت کسی بھی قبیلے کے رکن کے انفرادی عمل کو پورے قبیلے کا عمل تصور کیا جاتا ہے
 

مقامی طالبان نے گزشتہ دنوں ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کے سامنے جو شرائط رکھی تھیں ان میں سے ایک تمام قبائلی قیدیوں کی رہائی بھی تھی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس قیدیوں کی رہائی کے اس اقدام سے حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان تناؤ میں مزید کمی آئے گی۔