Wednesday, 28 June, 2006, 16:23 GMT 21:23 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں سکھوں کے مُردوں کی آخری رسوم کی ادائیگی کے لیئے شمشان گھاٹ تعمیر ہو گئی ہے اور وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے مطابق ہندؤوں کے شمشان گھاٹ کے لیئے مختص جگہ پر جلد تعمیر مکمل ہو جائے گی۔
وفاقی وزیر نے بدھ کی صبح صحافیوں کے ساتھ سکھوں کے شمشان گھاٹ کا افتتاح کرنا تھا لیکن شہر میں شدید بارش کے سبب وہاں نہیں جاسکے۔
یہ شمشان گھاٹ بند روڈ اور موٹروے کے سنگم پر دریائے راوی سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر بابو صابو کے علاقہ میں بنایا گیا ہے۔
سکھوں کے شمشان گھاٹ کی جگہ پر ایک چار دیواری بنا دی گئی ہے اور ایک کتبہ نصب کردیا گیا ہے۔ ہندؤوں کے شمشان گھاٹ کا کتبہ تو لگادیا گیا ہے لیکن چار دیواری ابھی تعمیر ہونا ہے۔
اعجاز الحق نے بدھ کے دن صحافیوں کے ساتھ لاہور میں ہندؤوں کے واحد پوجا کے لیئے زیر استعمال مندر کا دورہ بھی کیا جو ان کا اس مہینہ میں اس کا دوسرا دورہ تھا۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہندؤوں کے پانچ مندر ہیں اور وہ جس مندر میں پوجا کرنا چاہیں حکومت اس کے لیئے سہولتیں دے گی۔
انہوں نے شہر میں کسی مندر کوگرائے جانے کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرون شہر میں جس جگہ پلازہ بنایا جارہا ہے وہاں پہلے رہائشی عمارت تھی جبکہ مندر کچھ فاصلہ پر تھا جو اب بھی موجود ہے۔
![]() | |
| کرشنا مندر راوی روڈ پر بند روڈ کے قریب واقع ہے۔ |
انیس سو بانوے میں بھارت کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد لاہور میں مشتعل ہجوم نے کئی مندروں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔
وفاقی وزیر کا کرشنا مندر کے بار بار دورے اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کی سرکاری تشھیر لاہور میں ہندو اقلیت کے وجود کا پہلا سرکاری اعتراف کہا جا سکتا ہے۔