Wednesday, 28 June, 2006, 04:29 GMT 09:29 PST
ڈنمارک نے ایک عدالت نے منگل کے روز نو پاکستانی نژاد افراد کو غیرت کے نام پر قتل کا مجرم قرار دیا ہے۔
ڈنمارک کے عدالتی نظام کے تحت ان افراد کو سزا بعد میں سنائی جائے گی جو ممکنہ طور پر عمر قید ہو سکتی ہے۔
مجرم قرار دیئے جانے والوں میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکی کے بھائی اور والد سمیت خاندان کے آٹھ افراد شامل ہیں۔
کوپن ہیگن سے صحافی نصر ملک کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کا یہ واقعہ گزشتہ سال ستمبر میں پیش آیا تھا۔
صحافی نصر ملک کے مطابق مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی انیس سالہ غزالہ خان ایک افغان لڑکے سے محبت کرتی تھی لیکن اس کا خاندان اس صورت حال سے ناخوش تھا۔
گزشتہ سال ستمبر میں غزالہ خان نے اپنے گھر سے بھاگ کر خاندان کی مرضی کے خلاف 27 سالہ ایمال سے شادی کر لی۔
لیکن اس شادی کے دو دن بعد ہی غزالہ خان کو اس کے بھائی اختر عباس نے اس پرہجوم سٹیشن پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جبکہ اس کا خاوند زخمی ہو گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزالہ خان کے خاندان نے اس کے گھر سے غائب ہونے کے بعد تین ہفتے تک اس کو تلاش کیا اور میں اس کی خالہ کے ذریعے اسے یہ کہہ کر سٹیشن پر بلایا کہ اس کا خاندان اس سے ناراضگی ختم کرنا چاہتا ہے۔
صحافی نصر ملک کے مطابق غزالہ خان کے والد غلام عباس کا تعلق پاکستان کے ضلع گجرات سے ہے اور وہ 1970 کے عشرے میں ڈنمارک آکر آباد ہوئے تھے۔
وہ ڈنمارک میں ایک ٹیکسی کمپنی کے مالک ہیں اور ان شمار ڈنمارک میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔
’گزشتہ کچھ عرصہ میں ڈنمارک میں چار پاکستان نژاد لڑکیاں غیرت کے نام پر قتل ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے غزالہ خان قتل کیس کو ڈینش ذرائع ابلاغ میں زبردست توجہ حاصل ہوئی ہے اور یہ معاملہ گزشتہ ایک سال سے شہ سرخیوں میں ہے۔‘