Tuesday, 27 June, 2006, 01:43 GMT 06:43 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفر آباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے تودے گرنے کی خطرے کی پیش نظر زلزہ زدہ تئیس دیہات کو خالی کرانے کا عمل منگل سے شروع کیا جارہا ہے۔
ان دیہات کی آبادی کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل یکم جولائی سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مظفرآباد کے گرد نواح میں واقع تئیس دیہات میں زلزلے کے باعث زمین کی صورت حال ایسی ہوگئی ہے کہ بارش ہونے پر وہاں تودے گرنے کا خطرہ ہے۔
حکام کا کہنا کہ مون سون کی بارشیں جولائی کے اوائل میں شروع ہونے کا امکان ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان دیہاتوں کی آبادی کو اس سے پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان دیہات کی حال ہی میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے نشاندھی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ لینڈ سلائینڈنگ یعنی مٹی کے تودوں کی زد میں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تئیس دیہات کے کوئی گیارہ سو خاندانوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو پہلے سے موجود قریبی خیمہ بستیوں میں منتقل کیا جائے گا اور وہاں ان کے لئے نئے خیمے نصب کئے جائیں گے یا لوگوں کی سہولت کے مطابق ان کو اپنے دیہاتوں کے قریب محفوظ جگہ پر منقل کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا کہ مون سون ختم ہونے کے بعد خالی کرائے جانے والے علاقوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور اگر یہ علاقے محفوظ قراردیئے گئے تو اس صورت میں لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی بصورت دیگر ان لوگوں کو اگلے سال مارچ تک ان عارضی خمیوں بستیوں میں ہی رہنا پڑے گا۔
اس دوران حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ان متاثرین کی مستقل بحالی کے لئے متبادل بندوبست کرے گی۔