Tuesday, 27 June, 2006, 18:54 GMT 23:54 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تقریباً ایک سال کے تعطل کے بعد مقامی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے درمیان رابطے دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں منگل کے روز ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں قبائلیوں نے حکومت سے قیدیوں کی رہائی اور مراعات دوبارہ بحال کرنے جیسے اپنے مطالبات دہرائے۔
منگل کے روز اس جرگے میں تقریباً چار سو مقامی عمائدین، علما، منتخب نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔ شمالی وزیرستان کے لیئے تعینات نئے پولیٹکل ایجنٹ ڈاکٹر فخر عالم نے بھی اس میں شرکت کی۔
قبائلیوں کے مطالبات |
جعمیت علما اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا صدر عبدالرحمان نے یقین دلایا کہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں جو امن کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ قبائلی رسم و رواج کے مطابق فیصلوں کی صورت میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔
قبائلیوں اور جرگے کی طرف سے مطالبات پیش کرتے ہوئے، مولانا صدر عبدالرحمان نے جیلوں میں بند بے گناہ قبائلیوں کی رہائی، برطرف اور معطل ملازمین کی بحالی اور مراعات اور تنخواہیں بحال کرنے پر زور دیا۔
جرگے سے اپنے خطاب میں پولیٹکل ایجنٹ فخر عالم نے کہا کہ آج سے جرگوں کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ انہوں نے مقامی طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا تاہم اس امید کا اظہار کیا کہ اسے مستقل شکل دے دی جائے گی۔
انہوں نے مطالبات پر غور کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ادھر مقامی طالبان نے جرگے کے انعقاد کا خیرمقدم کیا ہے۔ عسکریت پسندوں کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ وہ بھی جنگ بندی کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے ان اٹھارہ قبائلیوں کو کچھ نہ کہنے کا اعلان کیا جنہوں نے گزشتہ دنوں صدر جنرل پرویز مشرف سے ایک جرگے میں ملاقات کی تھی۔
طالبان نے ان ملاقاتوں پر پابندی لگا رکھی تھی۔