Tuesday, 27 June, 2006, 09:58 GMT 14:58 PST
وسعت اللہ خان
اب منگورہ کے بھنڈ محلے میں کوئی پچیس خاندان باقی رہ گئے ہیں جن کا دارومدار درجن بھر طبلوں اور پیٹی اور چودہ یا پندرہ لڑکیوں کی کمائی پر ہے۔ یہ لڑکیاں پشاور تا بنوں اور مردان سے اسلام آباد تک بلائی جاتی ہیں۔ شادی کی تقریبات میں چلنتر پشتو اور اردو گیت گاتی ہیں اور کیسٹس کی دھن پر سیکھے ہوئے بھاؤ اور ٹھمکے دکھا کر تماشائیوں کی داد اور نوٹ سمیٹتی ہیں۔
بھنڈ محلے میں آباد چوتھی نسل کی ان رقاصاؤں کو جو بھی مدعو کرنا چاہتا ہے اگر وہ پہلے سے واقف نہیں ہے تو پھر اسے مقامی تھانے میں اپنا تعارف اور اتا پتہ بتانا پڑتا ہے۔ قومی شناختی کارڈ دکھانا پڑتا ہے۔ لڑکی کی سرپرست عورت یا مرد شخصی ضمانت کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں۔ خاندان کا کوئی مرد بھی لڑکیوں کے ساتھ بھیجا جا سکتا ہے تاکہ ممکنہ طور پر بہکنے والوں سے شائستگی کے ساتھ نمٹا جاسکے۔
گنگو کی یادیں |
یہ وہ سوات تھا جو بھنڈ محلے میں ساٹھ برس سے ہارمونیم بجانے والے استاد شیرزمان کا تھا۔ ’والی صاحب کے زمانے میں اتنے میلے لگتے تھے کہ ہم سازندوں کو کھانا تو درکنار چائے پینے کا وقت بھی نہیں ملتا تھا۔ گرمیوں میں کھاتے پیتے شنواری اور آفریدی تاجر اور خان اپنے دنبے ساتھ لاتے تھے اور ہمیں بحرین اور کالام تک لے جاتے تھے۔ کئی کئی دن تک محفلیں رہتی تھیں اور جاتے وقت جو سامان بچ جاتا تھا وہ بھی ہمیں دے کر خوش خوش جاتے تھے۔ آج ہمیں ڈمب (ڈوم) کہا جاتا ہے۔ یہی لوگ والی صاحب کے زمانے میں ہمیں اور ہماری رقاصاؤں کو اساتذہ کہہ کر سر آنکھوں پر رکھتے تھے۔ مہنگائی نے جہاں مجروں کو محدود کردیا وہیں ادب آداب بھی ہوا میں بکھر گئے ‘۔
![]() | |
| یہ وہ سوات تھا جو بھنڈ محلے میں ساٹھ برس سے ہارمونیم بجانے والے استاد شیرزمان کا تھا |
گنگو جیسی رقاصاؤں کی یہ عزت صرف رسمی نہیں تھی۔ جب کوئی خان کسی رقاصہ پر فدا ہوجاتا تھا تو من کی سچائی ثابت کرنے کے لیئے شادی تک کرلیتا تھا۔ گنگو کو بخمینہ یاد ہے جس سے ایک خان نے مرتے دم تک نباہ کیا۔ زیبا یاد ہے جسے والی نے اپنے حرم کی زینت بنا لیا۔
’مگر میرے ساتھ کیا ہوا۔ میں ناچی۔ میری دو سوکنیں ناچیں۔ آج میری اور سوکنوں کی بیٹیاں اور پھر ان کی بیٹیاں ناچ رہی ہیں۔ میں مخمل کے فرش پر ناچنے والی آج اپنے حالات سے اتنی تنگ ہوں کہ کسی کے برتن دھونے اور جھاڑو لگانے پر بھی آمادہ ہوں‘۔
![]() | |
| بیگم جان کراچی میں آباد ایک سواتی سازندے کے گھر پیدا ہوئیں |
گنگو کی دو پوتیوں کو گنگو کی بہو بیگم جان نے اس لیئے نچوایا کہ باپ کے علاج کے لئے دولاکھ روپے چاہیئے تھے۔ خود بیگم جان کراچی میں آباد ایک سواتی سازندے کے گھر پیدا ہوئیں اور شادی کے بعد منگورہ آئیں۔ بیگم جان نے بتایا کہ خاندان میں بہو کو نچوانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے تین لڑکیوں کی پیدائش کے بعد بھی ناچنا پڑا۔ ایک کی شادی ہوگئی۔ دو نے باپ کے علاج کے لئے قدم باہر نکالے۔ اب یہ خود بہت مشہور ہوگئی ہیں۔ ان کے رقص کی سی ڈی نکلنے کے بعد مجروں کے لیئے مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔ اب تو یہ میری بھی نہیں سنتیں‘۔
نیلو اور شبانہ بیگم جان کی باتیں سن سن کر مسلسل مسکراتی رہیں اور جیسے ہی مائیکروفون کا رخ ان کی طرف ہوا مسکراہٹ رخصت ہوگئی۔
مگر جو لوگ نشے میں بدتمیزی نہیں کرتے وہ جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ شادی کرلو۔ گھر لے لو۔ ساری دولت لے لو۔ تم نہ ملیں تو تمہارے گھر کے سامنے خود کو مارڈالوں گا۔ نہیں مانیں تو مجرے سے اٹھا کر لے جائیں گے۔ گھر پر بندے لے کر آئیں گے اور بالوں سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے۔ ہم کہتے ہیں اس سب کی کیا ضرورت ہے تم ہمیں ویسے ہی لے جاؤ۔ ہمارے ماں باپ کے پاس رشتہ بھیج دو۔تب انکا نشہ اتر جاتا ہے‘۔
شبانہ نے نیلو کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’لوگ خون سے شعر اور خط لکھ کر ہمیں زبردستی تھما دیتے ہیں۔ مجھے ایک آدمی کے بارے میں یہ جان کر اتنا دکھ ہوا کہ اس نے مجھے جو خط لکھا تھا وہ اپنے نہیں مرغی کے خون سے لکھا تھا۔ میں اور نیلو جب شاپنگ کرنے کبھی جاتے ہیں تو برقعے کے باوجود وہ پیروں اور آنکھوں سے پہچان جاتے ہیں۔ دیکھو دیکھو نیلو جارہی ہے۔ سی ڈی والی نیلو۔۔۔ ہم بہت ڈرتے ہیں۔ ہماری کئی لڑکوں سے لوگوں نے جھوٹ بول بول کر شادی کی اور دوتین مہینے بعد طلاق دے کر نکال دیا۔ لوگ پہلے ہمارا ناچ یا سی ڈی دیکھ کر عاشق ہوجاتے ہیں اور پھر بھوت ہوجاتے ہیں‘۔
![]() | |
| گنگو والی کے دربار میں تاج محل رقاصہ کے طور پر جانی جاتی تھی |
کہنے لگا ’ہمیں ہمارے ماں باپ نے اس کے علاوہ کچھ نہیں سکھایا کہ بہنوں کے ساتھ بیٹھو یا ان کے ساتھ جاؤ۔ بتائیں ہم اور کیا کریں۔ اگر لوگ ہمیں برا سمجھتے ہیں تو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ہم اچھے کیسے بنیں۔ والی صاحب کے زمانے میں ہم کیوں اچھے کہے جاتے تھے۔ ہم تو چور اور ڈاکو تک نہیں بن سکتے۔ پھر بھی ہم برے ہیں۔ اگر ہیں تو ہیں۔۔۔۔کیا کریں۔۔۔۔۔بس ہیں۔۔۔ہم ایسے ہی ہیں۔ میری تین بیٹیاں ہیں۔۔۔اگر سب کچھ ایسے ہی رہا تو وہ بھی ناچیں گی۔۔۔۔اور شاید ان کی بیٹیاں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔