Monday, 26 June, 2006, 11:56 GMT 16:56 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
شمالی وزیرستان سے کافی عرصے بعد کوئی اچھی خبر سننے کو ملی۔ امید کی جا رہی ہے کہ کئی ماہ کی بظاہر نہ ختم ہونے والی مار دھاڑ اب تھم جائے گی۔ لوگوں کو تھوڑا سکون ملے گا۔
اگرچہ یہ ایک عارضی جنگ بندی ہے لیکن مبصرین قیاس کر رہے ہیں کہ اس وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقین کسی مستقل حل کی تلاش کی کوشش ضرور کریں گے۔
قبائلی علاقوں کی انتظامیہ اور تجزیہ نگار اس پیش رفت کو اچھا شگون قرار دے رہے ہیں لیکن کیا شدت پسندوں کی جانب سے اس عارضی جنگ بندی کا مقصد حکومت سے سنجیدہ بات چیت ہے یا پھر یہ وقت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
شمالی وزیرستان سے اطلاعات ہیں کہ گزشتہ ماہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کا ایک پیغام قبائلی شدت پسندوں کے لیئے آیا کہ پاکستان میں لڑائی سے زیادہ اس وقت ان کی ضرورت افغانستان میں ہے۔
![]() | |
| مقامی طالبان نے سیز فائر کے بدلے فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے |
اطلاعات ہیں کہ بڑی تعداد میں مقامی نوجوان افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیئے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں مرنے والوں کو بعد میں خاموشی سے واپس لا کر دفن کر دیا جاتا ہے۔
اس بات کا اعتراف خود جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر بیت اللہ محسود بھی گزشتہ دنوں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آخری دم تک افغانستان میں غیرملکی فوج کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے رہیں گے۔
اس عارضی جنگ بندی سے مقامی طالبان بھی خوش دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے ان کو نہ صرف سانس لینے کا موقعہ ملے گا بلکہ دوبارہ صف بندی بھی کر سکیں گے۔
اس جنگ بندی کے اعلان سے طالبان نے گیند حکومت کے کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ اب تمام نظریں حکومت پر ہیں کہ وہ اس اقدام کا جواب کس طرح دیتی ہے۔ حکومت کے لیئے بعض شرائط ماننا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوسکتا ہے۔ ان میں فوج کے انخلاء پر سب سے زیادہ مخالفت کا امکان دیکھائی دیتا ہے۔
![]() | |
| لڑائی سے علاقہ تباہ حال ہوچکا ہے |
اس جنگ بندی سے حکومت کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس سے اسے یہ بتانے میں آسانی ہوگی کہ وہ وزیرستان کے قضیے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے میں سنجیدہ ہے۔ وہ اس جنگ بندی کو اس سلسلے میں اپنی ایک ابتدائی کامیابی بھی قرار دے رہی ہے۔
البتہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس بات چیت کو امریکی کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ خیال یہی ہے کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے مسئلے کا حل بات چیت سے زیادہ عسکری ذرائع سے حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی امریکی ناراضگی سے بچنے کی خاطر ماضی میں حکومت نے شدت پسندوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا چینل کھلا رکھا۔ تاہم کسی فوجی کارروائی کی وجہ سے یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہو نہیں پاتے تھے۔
وزیرستان میں حکومت اور شدت پسندوں کے لیئے بڑا چیلنج اب کسی طرح سے اس جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا ہوگا۔ ہر کسی کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ آیا یہ مذاکرات اور جرگہ کامیاب ہوسکے گا یا نہیں۔ وقت ہی بتا سکے گا کہ حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان پس پردہ رابطے کیا رنگ لائیں گے؟