Monday, 26 June, 2006, 07:01 GMT 12:01 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں قیام امن اور بازار کا محاصرہ ختم کرنے کے سلسلے میں حکومت اور قبائل کے مابین جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے حالات کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
دو ہفتے قبل لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ نے ہزاروں مسلح حامیوں کے ہمراہ باڑہ میں امن کے نام پر مختلف جرائم کے لیے سزائیں دینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے وہاں پر حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔
قبائلی کونسلرز ، تاجر برادری اور ڈاکٹر ایسوسی ایشن پر مشتمل ممبران جرگہ نے لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ سے ملاقات کے بعد گزشتہ روز ڈوگرہ کے مقام پر اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سفیر اللہ سے ملاقات کی اور انہیں منگل باغ کے موقف سے آگاہ کیا۔
پولیٹکل انتظامیہ کا موقف ہے کہ باڑہ بازار کا محاصرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک منگل باغ اپنے ہزاروں مسلح حامیوں کے ہمراہ ہتھیار ڈال کر انتظامیہ کو تسلیم نہیں کرتے۔انتظامیہ نے علاقے میں اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی لگائی ہے۔
دوسری جانب لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف محاذ کھولنا نہیں چاہتے بلکہ علاقے میں قبائلی روایات کے تحت امن کے قیام کےلیے کوشاں ہیں۔
اپنے ہیڈ کوارٹرز گوگرنا ذخہ خیل سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ باڑہ کے لوگوں کے ایک جرگے نے ان سے درخواست کی کہ باڑہ میں لاقانونیت کو ختم کرنے کے لیے اقدام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سب کچھ وہ ’اللہ کے خوشنودی‘ اور لوگوں کے مطالبے پر علاقے کی بہتری کےلیے کررہے ہیں۔
ادھر باڑہ بازار دو ہفتے گزارنے کے باوجود آج بھی بند رھا جبکہ فرنٹیر کور اور خاصہ دار فورسز کے دستے سارا دن بازار میں گشت کرتے رہے۔ مقامی انتظامیہ نے بازار میں ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ کے آمدورفت پر پابندی عائد کردی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو لمبے راستوں سے پشاور اور دیگر علاقوں تک جانا پڑرہا ہے۔