Saturday, 24 June, 2006, 14:29 GMT 19:29 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت نے یکم جولائی تک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے زلزلہ زدہ شہر مظفر آباد کے گرد و نواح میں واقع تیس دیہاتوں کے گیارہ ہزار مکینوں کو محفوظ علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے معلوماتی نیٹ ورک IRIN نے بتایا ہے کہ یکم جولائی سے مون سون یا ساون کی بارشیں شروع ہونے کا امکان ہے اور اس دوران مذکورہ دیہات میں تودے گرنے کا خدشہ ہے۔
اس ادارے نے مظفرآباد میں قائم ’کیمپ مینیجمینٹ آرگنائزیشن‘ کے کمشنر راجہ عباس کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے تاحال ایک ہزار سے زائد خاندانوں کی منتقلی کے انتظامات شروع کردیئے ہیں جو کہ ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہیں۔
ابھی تو معاوضہ بھی نہیں ملا |
اُن کے مطابق اِن دیہاتوں کی حال ہی میں ’جیولوجیکل سروے آف پاکستان‘ نے نشاندہی کی تھی اور قرار دیا تھا کہ یہ ’لینڈ سلائیڈنگ‘ یعنی مٹی کے تودوں کی زد میں ہیں۔
پناہ گزینوں کے متعلق اقوام متحدہ کے مقامی فیلڈ افسر دولت خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر متعلقہ دیہات میں رہنے والوں کو باخبر کرنے کے لیے پمفلٹ بھی تقسیم کیئے ہیں۔
تودے گرنے کا خدشہ |
انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت ان کی چھت، کھانے پینے اور دیگر سہولیات کا انتظام کرے تو پھر ہی وہ محفوظ مقام پر جائیں گے۔