Friday, 23 June, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ کی گریجویشن کی سند جعلی ہے، انہیں نااہل قرار دیا جائے۔
وز
نثار کھوڑو نے کراچی یونیورسٹی کے لیٹر ہیڈ پر جاری ایک سرٹیفیکٹ بھی صحافیوں میں تقسیم کیا جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ راحیلہ ٹوانہ بنت فضل ربانی ٹوانہ کی بی اے کی سند جعلی ہے۔
یہ لیٹر کراچی یونیورسٹی کے اسٹنٹ کنٹرولر کے دستخط سے آٹھ اگست دو ہزار تین کو جاری کیا گیا ہے۔
نثار کھوڑو کے مطابق اب پارٹی صدر کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ راحیلہ ٹوانہ کی رکنیت کے خلاف ریفرنس دائر کریں اس کے بعد وزیراعلیٰ اور سپیکر کا فرض ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر ہم قدم اٹھائیں گے۔
دوسری جانب صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس لیٹر کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ یہ پی پی پی کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔
ورنہ ہم قدم اٹھائیں گے |
راحیلہ ٹوانہ کا کہنا ہے کہ آخری اجلاس میں پی پی پی اراکین نے تھوڑی پر ہاتھ پھرتے ہوئے اشارہ کیا تھا جس سے میں سمجھ گئی تھی کہ وہ کوئی اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ مجھ ایسا لگ رہا ہے کہ خواتین کے خلاف کوئی گھناونی سازش کی جارہی ہے اور کوئی بڑا واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔
راحیلہ ٹوانہ نے جو ایک بڑے عرصے تک پی پی پی سے وابستہ رہی ہیں نے کہا کہ مجھ پر کئی مرتبہ جملے کسے گئے ہیں اور امتیازی سلوک کیا گیا ہے کیا میں قوم کی بیٹی بہن نہیں ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اس حرکت کا جواب سیاسی طریقے سے دیا جائے گا۔