Friday, 23 June, 2006, 15:20 GMT 20:20 PST
نثار کھوکر
جیکب آباد
جیکب آباد کے صحافی مکیش روپیٹا اور کیمرہ مین سنجیو کمار ضمانت پر رہائی پانے کے بعد اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیکب آباد میں امریکی افواج کے زیر استعمال شہباز ایئر بیس کی خفیہ فلمبندی کی۔
اس موقع پر ایک یگانہ ڈھول والا بھی موجود تھا جو اس رہائی کو بڑی کامیابی سمجھ کر ڈھول بجا رہا تھا۔ مکیش روپیٹا اور کیمرہ مین سنجیو کمار سمیت پورا جلوس عدالت سے مقامی مندر پہنچا جہاں پوجا کی گئی۔
مکیش روپیٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی صحت تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ بچوں کے فکر نے خراب کردی ہے۔ بظاہر خوفزدہ مکیش نے مختصر بات کی اور اس میں ایک بار بھی کسی خفیہ ادارے کا نام نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ دنوں کے لیے بات کرنے سے روکا گیا ہے۔
ٹی وی چینل جیو کے لیے کام کرنے والے مکیش کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ عمومی طور پر وہ کلین شیو رہتے تھے۔ ایک ان دیکھا خوف بہرحال مکیش اور ان کے دوستوں پر طاری تھا۔
مکیش کے ساتھ رہائی پانے والے کیمرہ مین سنجیو نے بات کرنے سے معذرت کی ان کے بڑے بھائی راجیش نے روایتی طور پر خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کا بھائی واپس آگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنجیو کے انتظار میں ان کی ماں بیمار پڑ گئی تھی اور انہوں نے پورے گھر سے سنجیو کی تصاویر ہٹا دیں تھیں تاکہ سنجیو کی یاد کو کم کیا جاسکے۔
جیکب آباد شہر میں ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، جو تجارت سے وابستہ ہے۔ ان میں سے صرف مکیش ہی صحافت سے منسلک ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مکیش نے بتایا کہ مرشد کی زیارت کے بعد وہ نئے سر سے صحافت کا آغاز کریں گے اور اس طرح سے صحافت کریں گے کہ ’لوگوں کو یہ محسوس نے ہو کہ میں ڈر گیا ہوں۔‘