Friday, 23 June, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بھارت کے سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشان نے کہا ہے کہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیئے محض موثر قوانین ہی نہیں بلکہ مضبوط سیاسی عزم یا قوتِ ارادی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
جمعہ کے روز بھارت کے شہر چنائی سے اسلام آباد میں منعقد کردہ ایک سیمینار سے انہوں نے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ اپنے کام کے طریقہ کار، طور طریق اور اخلاق سے انتخابی عمل پر اعتماد پختہ کرسکتا ہے۔
یہ سیمینار ’پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیپارٹمینٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی‘ یعنی ’پلڈاٹ، نامی غیر سرکاری تنظیم نے جمعہ کے روز ملک میں ’انتخابات کی ساکھ کیسے بہتر بنائی جاسکتی ہے‘ کے عنوان سے منعقد کیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو پرکھنے کے لیے مختلف معیار ہیں اور دیکھنا پڑتا ہے کہ الیکشن کمیشن کس حد تک با اختیار اور موثر ہے اور ووٹر کو اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے میں کتنی آزادی حاصل ہے۔
بھارت کے سابق چیف الیکشن کمشنرنے زور دیا کہ انتخابی اخراجات کو سختی سے ’مانیٹر‘ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کوئی پیسے کے بل بوتے پر انتخابات پر اثر انداز نہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر کا کردار ایک ریفری کا ہوتا ہے اور وہ اُسے ایسے انداز میں عمل کرنا ہوتا ہے جس سے قانون کی بالادستی کا کلچر پیدا ہو۔ ان کے مطابق بھارت اور پاکستان میں زیادہ تر ووٹر ان پڑھ ہیں اس لیئے انہیں باشعور بنانے کے لیئے غیر سرکاری تنظیموں اور حکومت کو اقدامات کرنے ہوں گے۔
شفاف انتخابات اور عدلیہ |
انہوں نے کہا تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جیسے حق ملنے چاہییں اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا کہ کوئی بھی الیکشن کمیشن کے کردار کے بارے میں انگلی نہ اٹھاسکے۔
امریکی ماہر نے کہا کہ انتخابی عمل کی ساکھ پختہ کرنے میں عدلیہ کا بھی ایک بڑا کردار ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ کو فیصلے میرٹ پر اور جلد سنانے چاہییں۔ انہوں نے امریکہ کے گزشتہ صدارتی انتخابات کی مثال دی اور کہا کہ عدلیہ کو فیصلہ کرنا پڑا لیکن فریقین نے تحفظات کے باوجود بھی تہہ دل سے اُسے قبول کیا۔
سیمینار میں پاکستان کی حکومتی اور حزب مخالف کے اتحادوں میں شامل جماعتوں کے اراکین پارلیمان بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے مقررین سے کئی سوالات بھی کیے۔
سیمینار کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابی عمل بھی شفاف ہو اور دنیا کے مہذب ممالک کی طرح پاکستان میں بھی انتخابی اصلاحات کے ذریعے الیکشن کمیشن کی ساکھ بحال ہو۔
انتخابی عمل کو پرکھنے کے معیار |
وہ بھارت میں دفاع اور کابینہ سمیت مختلف محکموں کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں اور صدر مملکت کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ صدارتی انتخابات تو وہ ہارگئے تھے لیکن شفاف انتخابات کرانے کے حوالے سے اب بھی ان کا احترام کیا جاتا ہے۔