Thursday, 22 June, 2006, 08:08 GMT 13:08 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت کے خلاف سرگرم مقامی طالبان نے بدھ کے روز فوجی ہیلی کاپٹر کو میزائل سےگرانے کا دعوٰی کیا ہے۔
انہوں نے بدھ کو ہی بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں تین فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے مقامی شدت پسندوں کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بتایا کہ وہ ماضی میں بھی فوجی ہیلی کاپٹروں پر حملے کرتے رہے ہیں تاہم کامیابی انہیں اس مرتبہ ملی۔
پاکستان فوج کا تاہم کہنا ہے کہ ان کا بیل چار سو بارہ ساخت کا ہیلی کاپٹر بنوں شہر سے پرواز کے فورا بعد تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں دو افسروں سمیت چار فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ تین کو بچا لیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں پائلٹ کیپٹن شمس خان، کیپٹن شاہ فیصل، آپریٹر الطاف اور گنر اکرام شامل ہیں۔
مقامی طالبان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان پر دباؤ کی شدت میں اضافے کے نتیجے میں وہ بھی اپنی لڑائی میں تیزی لائیں گے۔ تاہم ترجمان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی۔
طالبان کے ترجمان نے بدھ کے ہی روز میرعلی کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد تین نیم فوجی ملیشیا کے سپاہیوں کی ہلاکت کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری بیان کے برعکس ہلاک ہونے والے سپاہیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی۔
طالبان کے ترجمان نے البتہ بدھ کے رات بنوں کے قریب تین پولیس اہلکاروں پر حملے کے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بارے میں انہوں ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ نامعلوم مسلح افراد نے بدھ کی رات بنوں کے قریب ایک پولیس گاڑی پر حملہ کرکے تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ نقاب پوش حملہ آور بعد میں پولیس کی گاڑی بھی ساتھ لے گئے تھے۔