Wednesday, 21 June, 2006, 17:41 GMT 22:41 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں عراق میں ہلاک ہونے والے القاعدہ کے اہم رہنما ابو معصب الزرقاوی کے لیے صوبہ سرحد کی اسمبلی میں دعائے مغفرت کی گئی ہے۔
انہوں نے سپیکر سے استدعا کی کہ ایوان میں القاعدہ کے رہنما کی مغفرت کےلیے دعا کی جائے جس پر سپیکر نے صوبائی وزیر زراعت قاری محمود کو دعا پڑھانے کو کہا۔
اس موقع پر ایوان میں موجود تمام اراکین اسمبلی نے طور پر ابو معصب الزرقاوی کے مغفرت کےلیے دعا میں شرکت کی۔
ادھر بدھ کے روز پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کے لیے سیکرٹری سکیورٹی صاحبزادہ سکندر قیوم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چھ ماہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود حکومت قبائلی صحافی حیات اللہ کو زندہ بازیاب کرانے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ حیات اللہ کے کیس کے لیے مقرر عدالتی انکوائری کل سے شروع ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ افراد کوپہلے ہی طلب کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ قبائلی صحافی کے قتل کی تحقیقات کے لیے جو انکوائریاں مقرر کی گئی ہیں ان پر حکومت اثر انداز ہوگی۔
باڑہ کے محاصرے کا اختتام |
اس سوال پر کہ کیا حیات اللہ کے قتل کی چھان بین کے سلسلے میں گورنر کی جانب سے جو تین انکوائریاں مقرر کی گئی ہیں وہ آزادانہ ہوں گی اور کیا وہ ملک کی حساس ایجنسیوں سے تحقیقات کراسکیں گی جیسا کہ حیات اللہ کے اہل خانہ کا جانب سے اس سلسلے میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے،
سیکرٹری فاٹا سکیورٹی نےیقین دلایا کہ تمام انکوائریاں مکمل طور پر آزادانہ ہونگی۔
خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سکندر قیوم نے کہا کہ باڑہ بازار کا محاصرہ مشروط طورپر تو ختم کردیا گیا ہے تاہم حالات اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتے جب تک مطلوبہ افراد اپنے اپ کو انتظامیہ کے حوالے نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی عناصرملوث ہیں تاہم حکومت وہاں پر ’طالبنائیزئشن‘ یا کسی کو اپنا راج قائم کرنے کا اجازت نہیں دے گی بلکہ ایسے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
کرم ایجنسی میں قبائل کے مابین لڑائی کے حوالے سے سیکرٹری سکیورٹی نے بتایا کہ دو روزہ لڑائی میں 14 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوئے ہیں تاہم اب وہاں حکومت نے جنگ بندی کردی ہے اور جرگے کے ذریعے سے وہاں پر امن قائم کردیا گیاہے۔