Tuesday, 20 June, 2006, 13:34 GMT 18:34 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کویت اور پاکستان نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنے کے معاملے پر ایران کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے لیکن اُسے ایسا کرتے وقت تمام عالمی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔
یہ مشترکہ بیان کویت کے امیر شیخ صبا الاحمد الجابر الصباح کے دو روزہ پاکستان کے دورے کے اختتام پر جاری کیا گیا ہے۔ کویت کے کسی امیر کا چھبیس برس بعد یہ پہلا پاکستان کا دورہ ہے۔ البتہ شیخ صبا الاحمد الجابر الصباح بطور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ انیس سو ترانوے اور ستانوے میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔
کویت کے امیر نے پیر کے روز صدر جنرل پرویز مشرف اور منگل کے روز وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقاتوں میں دوطرفہ امور کے علاوہ افغانستان، عراق اور دیگر عالمی اور علاقائی معالات پر بات چیت کی۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں نے کشمیر اور فلسطین تنازعات کا منصفانہ حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان تنازعات کا حل تلاش کیا جائے۔
کویت اور پاکستان کے سربراہان نے پیٹرولیم، پیٹرو کیمیکل، فرٹیلائیزر، توانائی، شہری ہوا بازی اور انفرا سٹرکچر کےشعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا دنیا کی اقتصادی ترقی کے لیئے تیل کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ میں مستحکم رکھنا لازمی ہے۔
![]() | |
| کویت کے وفد نے گوادر میں سرمایہ کاری کے لیئے دلچسپی ظاہر کی ہے |
پورٹ قاسم پر تیل صاف کرنے کے اس مجوزہ کارخانے میں روزانہ ایک لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس پر ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی۔ لیکن اس بارے میں مشترکہ اعلامیے میں تفصیل سے ذکر تو موجود نہیں لیکن اتنا کہا گیا ہے کہ کویت کے امیر کے اِس دورے میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے پانچ معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کو فعال بنانے اور وزارتی سطح پر اس کمیشن کے تواتر کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔
کویت کے سرمایہ کاروں نے گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری کرنے اور بالخصوص ویئر ہاؤس تعمیر کرنے اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے کویت کے امیر کا زلزلہ زدگان کے لیئے دس کروڑ ڈالر کی امداد دینے پر شکریہ ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد کویت خلیجی ممالک میں تیسرا بڑا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے۔ کویت فنڈ سے ساڑھے چوبیس کروڑ ڈالر کے سات منصوبے اس وقت پاکستان میں چل رہے ہیں۔
قبل ازیں دو روزہ دورے پر پیر کے روز کویت کے امیر جب اسلام آباد پہنچے تھے تو پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف خود انہیں خوش آمدید کہنے کے لیئے ہوائی اڈے پہنچے تھے۔ کویت کے امیر کے ہمراہ خارجہ، مالیات اور توانائی کے وزراء کے علاوہ کاروباری حضرات بھی ہیں۔