Tuesday, 20 June, 2006, 18:38 GMT 23:38 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے منگل کو بلوچستان حکومت کا سال07 2006 کا انسٹھ ارب ستر کروڑ روپے کا خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ حزب اختلاف نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور کہا ہے کہ بارہ فیصد سے زیادہ خسارے کا بجٹ پیش کرنا غیر آئینی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں منگل کو حسب معمول بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف کے ارکان ڈیسک بجاتے رہے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ ان ارکان نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن بند کیا جائے۔ اس دوران صوبائی وزیر خزانہ تقریر کرتے رہے اور مخلوط حکومت میں شامل اراکین ڈیسک بجا کر ان کی حمایت کرتے رہے۔
وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے کہا ہے کہ انسٹھ ارب ستر کروڑ روپے کے اس بجٹ میں سینتیس ارب پچاس کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیئے اور سات ارب چھ کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کی مد میں رکھے گئے ہیں جبکہ بجٹ کا خسارہ دس ارب چھیانوے کروڑ تیس لاکھ روپے ہے۔
قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت نا اہل ہے جو وفاق سے اپنا حق بھی حاصل نہیں کر سکتی۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے ننانوے فیصد ٹیکس والے وسائل پر وفاق کا قبضہ ہے جن میں سونا گیس تیل اور ساحل شامل ہے جبکہ پنجاب کے وسائل پر پنجاب خود بااختیار ہے۔
حزب اختلاف کا واک آؤٹ |
بلوچستان حکومت کا یہ متواتر تیسرا خسارے کا بجٹ ہے۔ صوبائی حکومت اس وقت سٹیٹ بینک سے تقریباً پندرہ ارب روپے اوور ڈرافٹ کی صورت میں لے چکی ہے ۔
اجلاس شروع ہونے سے پہلے بلوچستان اسمبلی کے سامنے کوئٹہ کے صحافیوں نے حیات اللہ کے قتل کے حوالے سے احتجاج کیا اور سخت نعرہ بازی کی۔ بعد میں سپیکر جمال شاہ کاکڑ اور ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی کے اصرار پر صحافیوں نے احتجاج تو ختم کردیا لیکن پریس گیلری میں بجٹ تقریر کی کاپیاں نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر صحافی گیلری سے نکل آئے جس پر حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔